محترم جناب مفتی صاحب! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ مرحومین کو کچھ پڑھ کر جو ایصالِ ثواب کرتے ہیں، کیا اس کا ثواب صرف مرحوم کو ملتا ہے یا پڑھنے والےکو بھی ملتا ہے ؟
اگر کوئی شخص اپنی کسی جانی یا مالی عبادت کا ثواب کسی مرحوم کو بخشتا ہے، تو اس کی وجہ سے بخشنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی، بلکہ اس کو بھی پورا پورا ثواب ملتا ہے اور مرحوم کو بھی ثواب پہنچتا ہے۔
کما في الشامية: صرح علماؤنا فی باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا فی الهداية، بل فی زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة اهـ (2/ 243)
وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع اھ(2/ 243)