ایک ادارہ ہے جس کا نام " ون لنگ پرائیویٹ لمیٹڈ " ہے یہ ادارہ اے ٹی ایم کی سہولت فراہم کرتا ہے اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے ، ٹرانسفر کرنے یا اس طرح کی دوسری سہولیات ، یہ ادارہ بنک تو نہیں ہے لیکن بنک کو یہ سہولیات فراہم کرتا ہے اس ادارے کی کمائی بنک سے ہی ہوتی ہے کیا اس طرح کے ادارے میں نوکری کرنا صحیح ہے ؟ کیا اس کی کمائی پر بنک کی کمائی کا حکم ہو گا یا اس کا الگ حکم ہے ؟
سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکور ادارہ بنک کو فقط اے ٹی ایم وغیرہ کی سہولیات فراہم کرتا ہے بر اور است سودی لین دین میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں، اس لئے اس ادارے میں ملازمت اختیار کرنا اور اس پر ملنے والی تنخواہ کو اپنے استعمال میں لانا جائز اور حلال ہے۔
كما في الدر المختار: والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع مجتبى اھ (5/ 69)
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: والضابط عندهم: أن كل ما فيه منفعة تحل شرعاً، فإن بيعه يجوز، لأن الأعيان خلقت لمنفعة الإنسان اھ (4/ 3029)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وما كان سببا لمحظور فهو محظور اهـ. (6/ 350)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0