امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے، کیا نابالغ بچہ نمازِ تراویح کے دوران نیت باندھ کر پیچھے سے غلطی بتا سکتا ہے؟
اگرچہ نابالغ بچہ بھی بتا سکتا ہے، مگر زیادہ بہتر یہ ہےکہ کسی عاقل و بالغ کو اپنا سامع مقررکیا جاۓ ۔
فی تقریرات الرافعی : قوله ذکرہ فی البحر بحثًا قال الرحمتی ربما یتعین فی زماننا ادخال الصبیان لأن المعهود منهم إذا إجتمع صبیان فأکثر تبطل صلاة بعضهم ببعض وربما تتعدی ضررهم إلی فساد صلاة الرجال اھ(۱/ ۷۳)۔