السلام علیکم! ایک امام صاحب پہلی تکبیر کے وقت کانوں تک ہاتھ اُٹھا کر باندھ لیتے ہیں، تب اسی وقت اس کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا آتی ہے، کیا یہ عمل ٹھیک ہے؟ اب اگر ایک مقتدی نے اس کے ہاتھ اُٹھاتے ہی اللہ اکبر سے نیت باندھ لی ، جبکہ ابھی امام کے منہ سے تکبیر اولیٰ یا تکبیر تحریمہ کی آواز بھی نہیں نکلی تھی، تو کیا اس کی نماز ٹھیک ہوگی؟ اگر نہیں تو غلطی کس کی ہوگی؟ مقتدی کانوں بھرا بھی ہو سکتا ہے، حضرت راہ نمائی فرما دیں۔
امام صاحب کو چاہیے کہ تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اُٹھاتے وقت" اللہ اکبر" کہہ دیا کرے، تاہم اگرکسی مقتدی نے امام صاحب کے" اللہ اکبر "کہنے سے قبل "اللہ اکبر" کہہ کر نماز شروع کر دی ہو تو ایسی صورت میں اس کی اقتداء درست نہ ہوگی۔
ففی بدائع الصنائع: وأما هذا فمن أهل الاقتداء به، والصلاة خلفه معتبرة فلم يصر بالاقتداء به ملغيا صلاته والله أعلم هذا إذا كبر المقتدي وعلم أنه كبر قبل الإمام، فأما إذا كبر ولم يعلم أنه كبر قبل الإمام أو بعده، ذكر هذه المسألة في الهارونيات وجعلها على ثلاثة أوجه: إن كان أكبر رأيه أنه كبر قبل الإمام لا يصير شارعا في صلاة الإمام، وإن كان أكبر رأيه أنه كبر بعد الإمام يصير شارعا في صلاته؛ لأن غالب الرأي حجة عند عدم اليقين بخلافه، وإن لم يقع رأيه على شيء فالأصل فيه هو الجواز ما لم يظهر أنه كبر قبل الإمام بيقين، ويحمل على الصواب احتياطا ما لم يستيقن بالخطأ اھ (۱/ ۱۲۸) واللہ أعلم بالصواب!