السلام علیکم! ایک محترم امام صاحب اقامت ابھی مکمل نہیں ہوتی کہ وہ تکبیر تحریمہ کہہ نماز شروع کرلیتاہے اور اقامت والا دو جملے ادا کر رہا ہوتا ہے، کیا یہ عمل صحیح ہے؟ اور اس طرح سے اقامت کرنے والا اور دوسرے مقتدی ثناء پڑھنے سے اکثر رہ جاتے ہیں؟ کیا اقامت کو بیچ میں ترک کر کے امام کے ساتھ تکبیر کہا جا سکتا ہے؟ راہ نمائی فرما دیں۔
اگر مذکور امام صاحب ’’قد قامت الصلوٰة ‘‘کے بعد تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرتا ہو تو اس کا یہ عمل بلا شبہ جائز اور درست ہے، البتہ بہتر ہے کہ امام صاحب اقامت کے ختم ہونے کا انتظار کرے، تاکہ تمام مقتدیوں کو تکبیر تحریمہ کی سعادت حاصل ہو سکے،جبکہ موذن کے لیے امام کے تکبیر کہنے کے بعد ’’اقامت‘‘ کو ترک کرنا درست نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ اقامت پوری کر کے نماز میں شریک ہو۔
ففي الفتاویٰ التاتارخانية: قال ابوحنیفةؒ يكبر قبيل ’’قوله قد قامت الصلاة‘‘ هكذا فسر فی النوادر وقال أبو يوسف ينتظر فراغ المؤذن من الاقامة فاذا فرغ منها كبر هذابيان الأفضلية، ولوكبر بعد ما فرغ المؤذن من الاقامة كما قال ابوسفؒ جاز عند أبي حنیفة، ولو كبر قبيل قوله ’’قد قامت الصلاة‘‘ كما قال ابوحنیفةؒ جاز عند أبي يوسفؒ ليس المراد من قوله ’’قد قامت الصلاة‘‘ حقيقة الإخبار عن الإمامة بل المراد به الإخبار عن المقاربة اھ (۲/ ۱۵۹)
وفى الفتاوى الهندية: ويكبر الإمام قبيل قوله قد قامت الصلاة قال الشيخ الإمام شمس الأئمة الحلواني: وهو الصحيح. هكذا في المحيط. (1/ 57)