امامت و جماعت

اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے پچھلی صف میں نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
38591
| تاریخ :
2019-11-05
عبادات / نماز / امامت و جماعت

اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے پچھلی صف میں نماز پڑھنا

السلام علیکم! اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
سنن ابو داؤد (۶۷۸): رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہلی صف سے پیچھے رہتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: آگے آؤ اور میری پیروی کرو، اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں، وہ تمہاری پیروی کریں، کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے رہا کریں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں پیچھے ڈال دے گا۔
سنن ابو داؤد (۶۸۰): رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اسے ( نماز ) لوٹانے کا حکم دیا، سلیمان بن حرب کی روایت میں ہے نماز کو لوٹانے کا حکم دیا ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے پچھلی صف میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، لہٰذا حدیث اول کا مطلب بعض محدیثین نے یہ بیان کیا ہے کہ ،حضور صلی اللہ علیہ سلم نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو صف اول سے پیچھے رہتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: آگے آؤ اور میری پیروی کرو، مجھ سے نماز سیکھو ،جو لوگ تمہارے پیچھے ہیں، یعنی تابعین وہ تمہاری پیروی کریں گے، کچھ لوگ ہمیشہ خیر و بھلائی سے پیچھے رہیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل ہونے سے یا اپنی رحمت اور اپنے عظیم فضل سے پیچھے ہٹا دیں گے۔
۲۔ صف میں تنہا نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے آپ ﷺ نے پوری صف میں تنہا نماز پڑھنے والے شخص کو استحبابًا نماز لوٹانے کا حکم فرمایا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي اعلاء السنن: (تحت هذا الحديث) عن ابی سعید الخ قال الشيخ: محمله ما اذا قام خلف صف فيه فرجة فان ذلك مكروه رجع الطحطاوي كون الكراهة فيه تحريمة اھ (۴ / ۳۲۳)
و في بذل المجهود: (عن أبي نضرة)) منذر بن مالك، (عن أبي سعيد الخدري: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - رأى في أصحابه تأخرا) أي عن الصف الأول (فقال لهم: تقدموا) أي في الصف الأول (فأتموا بي) أي اقتدوا بي، وتعلموا صلاتي (وليأتم بكم من بعدكم) أي التابعون لكم، أو المراد الصف الثاني (ولا يزال قوم يتأخرون) عن الصف الأول، أو عن الخيرات، أو عن العلم، أو عن اكتساب الفضائل واجتناب الرذائل (حتى يؤخرهم الله عز وجل) أي في دخول الجنة، أو من رحمته وعظيم فضله اھ (۱/ ۳۶۵)
وفي اعلا السنن: عن وابصة بن معبد رضی اللہ عنه النبی صلی اللہ علیه وسلم رای رجلا يصلى خلف الصف وحده، فامره ان یعید الصلوة، قال الشیخ ظفر احمد (تحت قوله عن وابصة) قلت: محمول على الاستحباب، لأن حدیث أبى بكرة المتقدم دل على صحة الصلاة وعدم وجوب اعادتھا اھ(۴ / ۳۰۹)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شبیراللہ عبدالرؤف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38591کی تصدیق کریں
0     578
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات