کیا فرماتے میں احناف علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا ادارہ ۔۔۔۔ ایک ابتدائی تعلیمی ادارہ ہے، اور اس سال طلبہ کے جدید داخلے نہیں ہوئے اور پچھلے سال کے طلبہ کو ہم نے دوسرے مدارس بھیجا چونکہ درجہ ثانیہ تک اسباق میں ثالثہ کے لیے دوسرے مدارس کو طلبہ جاتے ہیں ، تو طلبہ کے نہ ہونے کی وجہ سے ۔۔۔کے اساتذہ میں تین اساتذہ ایسے ہیں جن کو دارالعلوم کی جانب سے مشاہرہ ملتا ہے، تو کیا ان کو یہ مشاہرہ دینا جائز ہے ؟ اور عید قربان تک ایک طالبعلم درجہ ثانیہ میں تھا، اب وہ بھی نہیں رہا ؟
مذکور مدرسین کو اگر مدرسہ انتظامیہ نے جواب نہیں دیا ہو، بلکہ ان کو دوسری کوئی ذمہ داری سونپ دی ہو، تو ایسی صورت میں وہ اساتذہ اب بھی مدرسہ کے استاذ اور ملازم ہیں ، ان کو مشاہرہ دینا مدرسہ انتظامیہ پر لازم ہے ، تاہم اگر طلباء نہ ہونے کی وجہ سے ان اساتذہ کی بھی ضرورت نہ ہو تو ان کو فارغ کرنا بھی درست ہے۔
كما في الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) (الى (قوله) (وإن) (هلك في المدة نصف الغنم أو أكثر) من نصفه (فله الأجرة كاملة) ما دام يرعى منها شيئا، لما مر أن المعقود عليه تسليم نفسه جوهرة، وظاهر التعليل بقاء الأجرة لو هلك كلها وبه صرح في العمادية اھ (6/ 69، 70) والله اعلم بالصواب
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0