کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک گاؤں میں ایک امام جو پچھلے ۱۶ سال سے امامت کروا رہا ہے فی سبیل اللہ، ایک دن امام نے جنازہ پڑھایا جس کے متعلق کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ شخص فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والا تھا، جبکہ امام کا کہنا ہے کہ مذ کورہ شخص اس کے پیچھے اکثر فجر کی نماز، جمعہ اور عیدین بھی پڑھتا دیکھا گیا ہے فقۂ حنفی کے مطابق ، اور امام نے مذکورہ شخص سے کوئی ایسی بات نہیں سنی ،جس میں اس نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین یا پھر امہات المومنین کی شان میں گستاخی یا بے ادبی کی ہو ، مذکورہ شخص امام کا محلے دار ہے اور امام نے اس کی بیٹی کا نکاح بھی پڑھایا تھا، فقہ حنفی کے مطابق اور سنی لڑکے کے ساتھ، یاد رہے کہ امام عالمِ دین نہیں ہے، بلکہ صرف قرآن پاک اور میٹرک تک کی تعلیم ہے، اب اس شخص کا انتقال ہوگیا تو امام نے قریبی شہر سے اپنے ایک جاننے والے عالمِ دین سے استفسار کیا کہ اس طرح کے شخص کا نماز جنازہ پڑھایا جائے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے سامنے اس کی زندگی ایسی گزری ہے تو آپ پڑھا سکتے ہیں اور ساتھ عبداللہ بن ابی کے جنازے کا حوالہ بھی دیا، اب امام نے جنازہ پڑھا دیا فقہ حفی کے مطابق، جنازہ کے بعد ایک اور مسئلہ پیش آگیا ، امام کے جانے کے بعد میت کے چند رشتے داروں میں جو دوسرے شہر سے آۓ تھے، انہوں نے کہا کہ وہ دوبارہ جنازہ فقہ جعفریہ کے مطابق ادا کریں گے، جن کی تعداد تقریباً ۲۰ کے قریب تھی، اُن کے اس عمل سے امام بے خبر تھے، جب امام کو اُن کے اس عمل کی خبر ہوئی تو اسے کافی دکھ اور افسوس ہوا، شرمندہ اور نادم ہوا اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور بار بار توبہ استغفار بھی کیا، امام نے بغیر کسی لالچ کے ایک مسلمان سمجھ کر اس کی نمازِ جنازہ ادا کی، ایسے امام کے لۓ کیا حکم ہے؟
مذکور امام موصوف نے اپنی دانست کے مطابق اس شخص کو مسلمان جان کر جنازہ پڑھایا ہو ، جبکہ وہ شخص امام صاحب کے پیچھے نمازیں بھی پڑھتا رہا ہو ، اس نے بیٹی کا نکاح بھی امام صاحب سے پڑھوایا ہو ، تو اس شخص کو مسلمان ہی تصور کرنا چاہیئے، اس کے انتقال کے بعد اس کے رشتہ دار اگر باوجود مسلمان ہونے کے ، شیعہ مذہب کے مطابق اس کا جنازہ پڑھا دیں تو اس سے فرق نہیں پڑے گا، اس لۓ امام موصوف کو اس شخص کا جنازہ پڑھانے کی وجہ سے قصور وار ٹھہرانا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار : (و هي فرض على كل مسلم مات خلا) أربعة (بغاة ، و قطاع طريق) فلا يغسلوا ، و لا يصلى عليهم اھ (2/ 210)۔
و في بدائع الصنائع : و أما بيان من يصلى عليه فكل مسلم مات بعد الولادة يصلى عليه صغيرا كان ، أو كبيرا ، ذكرا كان ، أو أنثى ، حرا كان ، أو عبدا إلا البغاة و قطاع الطريق ، و من بمثل حالهم لقول النبي - صلى الله عليه و سلم - «صلوا على كل بر و فاجر» اھ (1/ 311)۔