حضرت میرا وطن بنگلہ دیش ہے،میں پڑھائی کرنے کےلیے حیدرآباد بھارت میں ہوں، یہاں ہماری اسٹوڈئنٹ ہاسٹل کی جو مسجد ہے یہاں عرب ممالک سے آئے ہوئے طلباء امام ہوتے ہیں، اور وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب کے مقلدین ہیں، ایک دن عصر کی نماز 4:30 پر شروع ہوا،نماز کے بعد میں نے روزنامے میں دیکھا کہ عصر کا وقت شروع ہوا 4:42 پر، جب یہ بات مجھ میں آئی کہ ہاں شافعی مذہب کے مطابق وقت مخصوص کیا گیا تومیں نے فقہ حنفی کے مطابق وقت جو روزنامے میں بتایا گیا یعنی 4:42 کے بعد پھرسے وہ نماز اداکرلیا ایسا کرنا صحیح ہوا یا نہیں؟ اگر حنفی مقلد نےامام شافعی رحمہ اللہ کا بتایا ہوا وقت میں نماز ادا کرلیا اورامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق وہ وقت ابھی شروع نہیں ہوا ایسا کرنا کیسا ہے؟
2۔ اگر نماز کی حالت میں امام کی پینٹ یا پہنا ہوا پاجامہ وغیرہ ٹخنوں کے نیچے ہو تو مقتدی کی نماز میں کوئی زیادہ یا کم ہوگا؟
احناف کے ہاں عصر کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب سایہ اصلی کے علاوہ ہر چیز کا سایہ دوگنا ہوجائے، لہذا سائل کو معلوم ہونے کےبعد کہ اس نے عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل نماز پڑھی ہے اس کا اعادہ کیا ہے تو یہ درست کیا ہے، اور اس سے اس کی نماز بھی ادا ہو چکی ہے، چنا نچہ حنفی طلباء کو شافعی امام کی اقتدا میں وقت سے پہلے نمازنہیں پڑھنی چاہیے اگر پڑھیں گے تو ان کی نماز ادا نہ ہوگی۔
(2)۔ نماز کی حالت میں امام کا پاجامہ یا شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو جائے تو اس سے نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ دانستہ ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے، جس سے احتر از لازم ہے۔