کسی مجبوری کی بناء پر محلے کی مسجد میں جماعتِ اولیٰ سے پہلے دوسری اور جماعت کروانا کیسا ہے؟ برائے مہربانی احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ، اور وہ مجبوری یہ تھی کہ ایک جنازہ میں شرکت کرنا تھی اس وجہ سے کچھ لوگوں نے اپنی جماعت محلے کی جماعت سے پہلے کروالی۔
جس مسجد کا امام و مؤذن اور لوگ متعین ہوں اور مسجد بھی محلے کی ہو اور جماعت کے اوقات بھی مقرر ہوں تو احناف کے نزدیک ایسی مسجد میں جماعت کے مقررہ اوقات کے علاوہ میں ایک اور جماعت کرانا مکروہ ہے، جبکہ بلاعذر تکرارِ جماعت کی عادت بنا لینا مقاصدِ جماعت کے بھی خلاف ہے ، اس لۓ اس سے احتراز لازم ہے، البتہ کبھی مجبوری کی وجہ سے نماز کے مقررہ اوقات سے پہلے یا بعد میں ایک اور جماعت کرانے کی نوبت آئے تو مسجد سے باہر یا گھر میں جماعت کرائی جا سکتی ہے۔
فی الدر المختار : و يكره تكرار الجماعة بأذان و إقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له و لا مؤذن الخ
و فی رد المحتار : تحت (قوله ويكره) أي تحريما لقول الكافي لا يجوز والمجمع لا يباح وشرح الجامع الصغير إنه بدعة كما في رسالة السندي (إلی قوله) ثم قال في الاستدلال على الإمام الشافعي النافي للكراهة ما نصه : و لنا «أنه - عليه الصلاة و السلام - كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد و قد صلى أهل المسجد فرجع إلى منزله فجمع أهله و صلى» و لو جاز ذلك لما اختار الصلاة في بيته على الجماعة في المسجد و لأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى ، فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنهم لا تفوتهم . (1/ 552)۔