میں نے بینک میں گولڈ رکھوا کر وہاں سے اس کے بدلہ پیسے لیے ہیں، آج کے ریٹ کے مطابق ، جب میں نے سونا واپس لینا ہو تو اس وقت کے ریٹ کے مطابق اتنے پیسے واپس دیکر واپس لے لونگا، لیکن بینک والے پَر دن کے حساب سے کچھ پیسے اضافی لیتے ہیں جو کہ ان کے بقول ٹیکس ہوتا ہے ، کیا یہ جائز ہے ؟ اور کیا یہ سود ہے ؟
سائل کو بینک میں بطورِ گروی سونار کھ کر سود پر قرض وصول کرنا جائز نہیں تھا، جس پر سائل کو بصدقِ دل تو بہ واستغفار کرنا چاہیئے، لیکن بینک والوں کے لئے بھی اصل رقم کے علاوہ بطور ِسود ٹیکس کے نام پر اضافی رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففى الدر المختار: باب الربا هو لغة: مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة اھ (5/ 168)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0