السلام علیکم!
میرا بینک اسلامی میں سیونگ اکاونٹ ہے، اور گزشتہ کئی سال سے ہے، جس پر بینک کی جانب سے کچھ معمولی فرق سے ہر ماہ نفع ملتا ہے ،کیا یہ نفع حلال ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر نا جائز ہے، تو میں اس نفع کو کہاں استعمال کروں ،جبکہ بینک میں اکاونٹ رکھنا میری مجبوری ہے، مجھے تفصیل سے آگاہ فرمائیں شکریہ!
ہماری معلومات کے مطابق ”میزان بینک “اور ”بینک اسلامی “کے اکثر وبیشتر معاملات مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ ایڈوائزری بورڈ کی زیر نگرانی ،شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہیں ، اس لئے ان بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوانے اور ان کے سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل ہونے والے منافع استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔