السلام علیکم ! درجِ ذیل مواقع پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے یا نہیں؟
۱۔ چار رکعات کی نماز میں دو رکعات کے بعد اگر التحیات میں "عبدہ و رسولہ" کے بعد درود شریف کا کچھ حصہ یا پورا پڑھ لیا جائے؟
۲۔جماعت کی نماز میں اگر کچھ رکعت رہ جائیں تو آخری التحیات میں "عبدہ و رسولہ" کے بعد درود شریف کا کچھ حصہ یا پورا پڑھ لیا جائے؟
سوال میں مذکور پہلی صورت میں اگر نماز فرض ، وتر یا سننِ مؤکدہ ہو اور نمازی نے قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد درود شریف کا کچھ حصہ ’’اللھم صل علی محمد‘‘ تک پڑھ لیا یا مکمل درود شریف پڑھا تو اس پر سجدۂ سہو واجب ہوگا ، جبکہ دوسری صورت میں چونکہ وہ امام کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا ہے، اس لۓ امام کے ساتھ قعدۂ آخرہ میں تشہد کے بعد درود شریف کا کچھ حصہ یا پورا درود شریف پڑھ لیا تو اس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہوگا۔
فی الدر المختار : (و لا يزيد) في الفرض (على التشهد في القعدة الأولى) إجماعا (فإن زاد عامدا كره) فتجب الإعادة (أو ساهيا وجب عليه سجود السهو إذا قال : اللهم صل على محمد) فقط اھ (1/ 510)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله و لا يزيد في الفرض) أي و ما ألحق به كالوتر و السنن الرواتب اھ (1/ 510)۔
و فی صحيح فقه السنة و أدلته و توضيح مذاهب الأئمة : إذا سها المأموم خلف الإمام فإن الإمام يحمل عنه سهوه ، و ليس عليه سجود للسهو ، عند أكثر أهل العلم من الأئمة الأربعة و غيرهم ، و قد ورد في هذا حديث مرفوع عن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم : «ليس على من خلف الإمام سهو ، فإن سها الإمام فعليه و على من خلفه السهو ، و إن سها خلف الإمام فليس عليه سهو و الإمام كافيه» اھ (1/ 470)۔
و فی الموسوعة الفقهية الكويتية : إذا سها الإمام في صلاته ثم سجد للسهو فعلى المأموم متابعته في السجود سواء سها معه أو انفرد الإمام بالسهو . قال ابن المنذر : أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم على ذلك سواء كان قبل السلام أو بعد السلام . لقول الرسول صلى الله عليه و سلم: إنما جعل الإمام ليؤتم به(الی قولہ علیہ السلام) و إذا سجد فاسجدوا و لحديث ابن عمر - رضي الله عنهما - ليس على من خلف الإمام سهو ، فإن سها الإمام فعليه و على من خلفه السهو اھ (24/ 242)۔
و فی الدر المختار : (و مقتد بسهو إمامه إن سجد إمامه) لوجوب المتابعة (لا بسهوه) أصلا (و المسبوق يسجد مع إمامه مطلقا) سواء كان السهو قبل الاقتداء أو بعده (ثم يقضي ما فاته) و لو سها فيه سجد ثانيا اھ (2/ 82)۔
وف ی الفتاوى الهندية : سهو المؤتم لا يوجب السجدة اھ (1/ 128)۔
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0