امامت و جماعت

امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ نہ پڑھنے سے متعلق آیات و احادیثِ مبارکہ کا بیان

فتوی نمبر :
35330
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ نہ پڑھنے سے متعلق آیات و احادیثِ مبارکہ کا بیان

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام کہ جب ہم امام کے پیچھے نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں تو سورۃِ فاتحہ کیوں نہیں تلاوت کرتے ہیں؟ قرآن و حدیث کا حوالہ دے کر مشکور فرمائیں، اور اگر فقہ میں سورۃِ فاتحہ کی تلاوت کے سلسلے میں درست حدیث موجود ہو تو کیا ہم اس پر عمل کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ اس لۓ نہیں پڑھتے کہ قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اس کی ممانعت آئی ہے، اور نبی کریمﷺ نے امام کی قراءت کو مقتدی کی قراءت قرار دی ہے ، ذیل میں اس سلسلہ کی چند آیات و احادیث مع ترجمہ درج کی جا رہی ہیں ملاحظہ ہوں۔
﴿و اذا قرئ القرآن فاستمعوا له و أنصتوا لعلكم ترحمون﴾ (پاره نمبر ۹ سورة اعراف آیة نمبر ۲۰۴.)
’’کہ جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگائے رہو اور خاموش رہو تا کہ تم پر (حق تعالیٰ) کی رحمتیں نازل ہوں‘‘۔
اس آیت کے بارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال ملاحظہ ہوں:
فی التفسیر المظھری : و ذكر البغوی عن المقدادا نه سمع ناسًا یقرؤن مع الامام , فلما انصرف قال : اما اٰن لكم ان تفقھوا ’’و اذا قرئ القرآن فاستمعوا له و انصتو‘‘ كما امركم الله ۔( ص ۴۵ ج ۳ ط : رشیدیہ).
ترجمہ : امام بغوی نے حضرت مقداد بن اسودؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو امام کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ، آپ نے ان لوگوں کو (ڈانتے ہوئے) فرمایا کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم عقل سے کام لو۔ ’’جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اسکی طرف کان لگاؤ اور خاموش رہو‘‘ جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔
و فی التفسیر لابن كثیر : عن ابن عباس فی الایة قوله ’’و اذا قرئ القران فاستمعوا له و انصتوا‘‘ یعنی فی الصلاة المفروضة الخ (ص ۳۷۳ ج ۲ ط : قدیمی)۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ’’ و اذا قری القرآن فاستمعوا له و انصتوا ‘‘ کا شانِ نزول فرض نماز ہے۔
و فی صحیح مسلم بطریق سلیمان التیمی عن ابی موسیٰ الاشعری قال ان رسول اللهﷺ خطبنا فبین لنا سنتنا و علمنا صلوٰتنا فقال اقیموا صفوفكم تم لیقدمكم احدكم فاذا كبر فكبروا و اذا قرء فانصتوا و اذا قال ’’غیر المغضوب علیھم و الا الضالین فقولوا آمین الحدیث (ص ۱۷۴ ج ۱ کتاب الصلاۃ : باب التشھد ).
ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ہمیں (صحابہ کرامؓ کو) خطاب فرمایا، پس آپ نے ہمیں سنت کی تعلیم وتلقین فرمائی اور نماز پڑھنے کا طریقہ بیان فرمایا ، پس حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نماز (شروع کرنے سے قبل) اپنی صفیں درست کر لو پھر تم میں سے ایک شخص تمہارا امام بنے جب وہ (امام) تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ، جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو ، اور جب امام ’’غیر المغضوب علیھم و لا الضالین ‘‘ کہے تو تم آمین کہو۔( کذا فی سننِ ابی داؤد کتاب الصلاۃ : باب التشھد ، ص ۱۴۰، ج ۱ ط: سعید)-
و فی المؤطا للأمام محمد : عن جابر عن عبد الله عن النبیﷺ: انه قال من صلی خلف الامام فان قراءة الامام له قراءة الحدیث . (باب القراءة فی الصلوٰة خلف الامام رقم الحدیث ۱۱۷)۔
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے امام کے پیچھے نماز پڑھی تو اس کے لۓ امام کی قراءت کافی ہے۔ (امام کا پڑھنا اسکا پڑھنا ہے اسے الگ پڑھنے کی ضرورت نہیں)۔
و أیضا فیه : ان عمر بن الخطاب قال لیت فی فم الذی یقرأ خلف الامام حجراً . (ص ۱۰۲ رقم الحدیث ۱۲۷)۔
ترجمہ :حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے پڑھنے والوں کے منہ میں پتھر پڑ جائیں۔
و فی المصنف لأبن ابی شیبة . عن زید بن ثابت قال من قرأ خلف الامام فلا صلوة له.(کتاب الصلاة ، باب ۱۴۸/ ۱۳ ، ص ۴۱۳ ط : بیروت)۔
ترجمہ : زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ جس شخص نے امام کے پیچھے قرأت کی تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔
و فیه ایضاً . عن ابن ثوبان عن زید بن ثابت قال : لایقرأ خلف الأمام إن جھر و لا إن خافت الخ
ترجمہ : حضرت ابن ثوبان حضرت زید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت نہ کی جائے ، امام بلند سے پڑھتا ہو یا پست آواز سے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ فقہ قرآن وسنت سے ہٹ کر اور ان کے متصادم کوئی دوسری شریعت نہیں، بلکہ نصوصِ شرعیہ کی وضاحت اور بعض مبہم اور مجمل وغیرہ احکام میں خود اپنی رائے زنی کے بجائے ان لوگوں کی آراء پر عمل کرنے کا نام ہے جو قرن اوّل سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ احکامِ شرعیہ پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے اور زُھد و تقویٰ اور خشیتِ الٰہی میں معروف اور مشہور بھی تھے اور انہی امور کی بناء پر ان کے اپنے ہمعصر بھی اس کی تعریف کرتے اور ان کے رسوخ فی العلم کا اقرار کرتے تھے، اس لۓ سائل کو اپنے مذکور طرزِ سوال سے احتراز چاہیۓ ۔ و اللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم و علمہ اتم و احکم

مأخَذُ الفَتوی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35330کی تصدیق کریں
0     1059
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات