السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیافرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کا سسرال والوں یا شوہر سے جھگڑا ہوا اور عورتوں کی عادت کے مطابق سسرال اور گھر والے کی شکایتیں اپنی پریشانیوں کا رونا چونکہ سسرال والوں سے اسکی بنتی نہیں،ہے، اس لیے اس نے اپنی گفتگو کے دوران اپنی قسمت کا رونا روتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ ’’اللہ کو بھی پتہ نہیں تھا کہ یہاں نورانی مخلوق رہتی ہے ان میں ایک انسان کو بھی بھیج دیا‘‘ مطلب یہ لوگ اگر انسانی کمزوریوں سے پاک ہیں تو پھر انسان کو کیوں یہاں بھیج دیا، اسی طرح اس نے اپنی قسمت کا رونا روتے ہوئے یہ کہا کہ سات سال پہلے بھی مجھے لٹکاکررکھا، چونکہ وہ کافی بیمار ہوئی تھی، اب جب اس سے پوچھا گیا کہ تونے کس نیت سے یہ کہا؟ تو اس نے بتایا کہ میں نے پہلی بات استفہام انکاری کے طور پر کی مطلب یہ تھا کہ یا اللہ آپ کو پتہ تھا کہ یہ لوگ اپنے آپکو اگر پاک سمجھ کر اور مجھے ناپاک سمجھتے ہیں تو ان لوگوں کے ساتھ میرے مقدر کو کیوں لکھا؟ دوسری بات کا مطلب یہ تھا کہ سات سال پہلے بھی پریشانیاں آئی اور آج بھی میری پریشانیاں ختم نہیں ہورہی ہیں، اب سوال یہ ہے کہ ان مذکورہ کلمات کے کہنے سے قائلہ کا ایمان کس حالت میں رہا؟ نکاح کا کیاہوا؟ وغیرہ وغیرہ ۔
مذ کورہ خاتون کے جملہ کا جو مطلب لکھا گیا ہے ، اگر واقعۃً بھی اس خاتون کا مقصد یہ تھا تو اس جملہ سے مذ کورہ خاتون کافر تو نہیں ہوئی ، اور نہ ہی اس کے نکاح پر کوئی اثر پڑا ہے، مگر اس طرح کے جملوں سے آئندہ خوب احتیاط کرنی چاہیے۔
ففی الدر المختار: (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف اھ(4/ 229)
وفی التاتارخانیة: الجاهل إذا تکلم بکفر ولم یدر انه کفر لایکون کفراً ویعذر بالجهل وفی إلینا بیع قال ابوحنیفة رضی اللہ عنه لایکون کفراً حتی یعقد علیه الکفر اھ(۵/۴۵۸) واللہ أعلم!
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1