امامت و جماعت

اختلافی مسائل میں مقتدیوں کی رعایت نہ رکھنے والے غیر حنفی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
34765
| تاریخ :
2018-07-14
عبادات / نماز / امامت و جماعت

اختلافی مسائل میں مقتدیوں کی رعایت نہ رکھنے والے غیر حنفی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
میں یہاں چائینہ میں پڑھائی کی غرض سے ہوں، با جماعت نماز کے لۓ امامت اکثر عرب یا افریقی طلباء ہی کرواتے ہیں (جو کہ غیر حنفی ہیں)۔
نمازِ تراویح آٹھ (۸) رکعت اور نمازِ وتر ۲ + ۱ کے طریقہ سے پڑھائی جاتی ہے۔
دورانِ تراویح اور وتر ، درجِ ذیل باتیں قابل توجہ ہیں:
1.امام صاحب دورانِ تراویح ، قرآن پاک سے دیکھ کر تلاوت کرتے ہیں۔
2.دورانِ سجدہ اور دورانِ قعدہ ، امام صاحب قرآن پاک کو گھٹنوں کے درمیان نیچے (جائے نماز ) پر رکھ دیتے ہیں، اور سلام کے بعد دوبارہ اُٹھا کر اگلی تراویح شروع کر دیتے ہیں۔
3.وتر میں آخری اکیلی رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت کے بجائے رکوع کے بعد امام صاحب اونچی آواز میں دعا مانگتے ہیں، جن میں غیر قرآنی دعائیں بھی شامل ہیں، ( مثلاً فلسطین، امتِ مسلمہ، دعاؤوں، نمازوں ، اور روزوں کی قبولیت کی دعائیں، وغیرہ)۔
میرے سوالات یہ ہے کہ:
1.ایسی صورت میں ہماری نمازوں کی کیا حیثیت ہو گی ؟ نمازیں ہوئیں یا نہیں ؟
2.امام ( غیر حنفی) کے قرآن پاک دیکھ کر تلاوت کرنے سے ہماری نماز پر کوئی اثر ہو گا ؟
3.امام ( غیر حنفی) کے قرآن پاک نیچے مصلے پر رکھ کر نماز مکمل کرنے کے بارے میں کیا حکم ہو گا ؟
4.وتر کی ادائیگی کے بارے میں کیا حکم ہو گا ؟ جلد جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
اللہ آپ سب کی حفاظت فرمائے، اور آپ سے اسی طرح ہر خاص و عام تک صحیح دین پہنچانے کا کام لیتا رہے۔ آمین

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

غیر حنفی امام ،حنفی مسلک کے مقتدیوں کی رعایت نہ رکھتا ہو جیسا کہ سوال میں مذکور امام قرآن پاک دیکھ کر پڑھنے کی صورت میں حنفی مقتدیوں کی رعایت نہیں کر رہا ، تو ایسی صورت میں ایسے امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست نہیں، اگر کوئی حنفی امام یا غیرحنفی جو تمام مقتدیوں کی رعایت کرے میسر نہ ہو ، تو اپنی علیحدہ نماز پڑھنا لازم ہے، جبکہ وتر کی نماز بھی حنفی مقتدیوں کو علیحدہ پڑھنی لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في البحر الرائق : و أما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع إنما اختلف في الكراهة اهـ (2/ 50)۔
و فيه أيضا : و صحح الشارح الزيلعي أنه لا يجوز اقتداء الحنفي بمن يسلم من الركعتين في الوتر اھ (2/ 42)۔
و فی الفتاوى الهندية : و يفسدها قراءته من مصحف عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى – (إلی قوله) و هذا يوجب التسوية بين المحمول و غيره فتفسد بكل حال و هو الصحيح . هكذا في الكافي اھ (1/ 101)۔
و فی حاشية ابن عابدين : و أما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع ، إنما اختلف في الكراهة اھ (1/ 563)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رشید رضا عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 34765کی تصدیق کریں
0     1098
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات