صرف قرآن پڑھا ہوا شخص جو عالم نہ ہو اس کو امام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور مستقل طور پراس کے پیچھے نماز کاکیا حکم ہے؟
محلّے کاغیر عالم امام اگر قرآن پاک کی تلاوت صحیح تلفّظ کے ساتھ کرتا ہو تو اس کی اقتداء میں مستقل طور پر نماز ادا کرنا جائز اور درست ہے -
ففی الدر المختار: (والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة(1/ 557)-