امامت و جماعت

امامت کے لۓ زلفوں اور لمبے بالوں کو ضروری سمجھنا

فتوی نمبر :
33432
| تاریخ :
2018-03-12
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امامت کے لۓ زلفوں اور لمبے بالوں کو ضروری سمجھنا

السلام علیکم! مجھے ایک بات کا فتویٰ معلوم کرنا ہے ، ہمارے آفس سے مسجد کچھ دور ہے، ہمارے آفس میں نماز کی جگہ ہے ، جہاں پر ہمارے آفس کے بوس ، پینٹ شرٹ میں، جماعت کروا دیتے ہیں اور کبھی ایک اور آدمی قمیص شلوار میں جماعت کرا دیتے ہیں ، کیا جماعت ہو جاتی ہے؟ کیا پینٹ شرٹ میں جماعت کروا سکتے ہیں؟ میں نے ایسا سنا ہے کہ جس کی ایک مٹھی داڑھی ہو ، وہ جماعت کرواسکتا ہے اور جس کے سر کے بال میں زلفیں ہوں ، زیادہ بال ہوں ، وہ جماعت کروا سکتا ہے اور جس کے بال نہ ہوں ، وہ جماعت نہیں کروا سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امام کے لۓ زلفوں کا ہونا یا سر کے بالوں کا زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں، البتہ امام ایسے شخص کو بنانا چاہیۓ جس کی وضع قطع سنت کے مطابق ہو اور داڑھی مونڈنا، چونکہ فسق و فجور کا کام ہے، اس لۓ داڑھی مونڈنے والے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں، تاہم بامرِ مجبوری جب کوئی اور باشرع امام میسر نہ ہو تو تنہا نماز پڑھنے سے، اس طرح کے فاسق امام کے پیچھے نماز پڑھنا بہتر ہے ، جبکہ پینٹ اگر اتنی ڈھیلی ڈھالی ہو کہ جس سے اعضاء کی ہیئت اور ساخت معلوم نہ ہوتی ہو تو اس کے پہننے والے کی امامت کرنا ، بوقتِ ضرورت درست ہے، اگر چہ امام کے لۓ ایسا لباس پہننادرست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : صلی خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة الخ و في حاشية ابن عابدين : (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد ، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع اھ (1/ 562)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فضل الرحمن جدون عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 33432کی تصدیق کریں
0     635
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات