بینک کے اندرونی حساب کی چانچ پڑتال کے شعبہ میں کام کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟میری اس میں رہنمائی کریں کہ کون سے شعبہ میں کام کرسکتے ہیں؟
بینک کی ملازمت کے بارے میں قدرے تفصیل ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو،جیسے منیجر اور کیشیر وغیرہ کی ملازمت تو ایسی ملازمت بالکل حرام اور ناجائز ہے،چنانچہ ایک حدیث میں ہے لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ و قال: ہم سواء (مسلم شریف: 2/855)
یعنی رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے سود دینے والے اور سودی تحریر لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر کے شریک ہیں، اور ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے، لیکن بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہ ہو , نہ ہی اس کا تعلق سود کے لکھنے اور اس پر گواہ بننے سے ہو اور نہ ہی سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہو،جیسے چوکیدار کی ملازمت ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں،یہ بھی جائز نہیں،کیونکہ ایسے ملازمین کا اگرچہ سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں،لیکن انہیں جو تنخواہ دی جاتی ہے،وہ ان رقوم کے مجموعے سے دی جاتی ہے،جو بینک میں موجود ہوتی ہیں اور اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے، اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، یہ جائز ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دی جاتی ہے، وہ اگرچہ ان رقوم کے مجموعے سے دی جاتی ہے، جو بینک میں موجود ہوتی ہیں،لیکن بینک میں موجود ساری کی ساری رقم سودی نہیں ہوتی، بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہیں یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں، جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوئی ہیں، یعنی بینک نے وہ رقم قرض کے طور پرلی ہوئی ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک کے مالکان کا اصل سرمایہ ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں،جو بطورِ سود کے حاصل کی گئی ہیں،لیکن بینک میں جمع شدہ ان مخلوط رقوم کی اکثر پہلی دوقسمیں ہوتی ہیں اور آخری قسم کی رقوم ان کی بنسبت کم ہوتی ہیں، اس لئے بینک میں موجود رقوم میں اکثر رقم حلال ہوتی ہیں، لہذا اس مجموعی مخلوط رقم سے ایسے ملازمین کو تنخواہ دی جاتی ہے، جن کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں تو ان کے لئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام نہیں، البتہ بہتر یہی ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے، لہذا سائلہ کیلئے بہتر تو یہی ہے کہ وہ کسی دوسرے حلال ذریعۂ معاش کو تلاش کرے، لیکن بعض علماءِ کرام کی رائے کے مطابق چونکہ بینک کی چوکیداری وغیرہ کی ملازمت کی گنجائش ہے، اس لئے اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز اور حرام نہیں۔
کما فی مشکٰوۃ المصابیح: عن عبد اللہ بن حنظلة غسیل الملائكة قال قال رسول اللہ ﷺ: درھم ربوا یاکله الرجل وھو یعلم اشد من ستة وثلاثین زنیة،رواہ احمد والدار قطنی وروی البیھقی فی شعب الایمان عن ابن عباس وزاد قال من نبت لحمه من السحت فالنار اولیٰ به اھ
وفیه ایضاً: عن ابی ھریرۃ۔رضی اللہ عنه۔قال قال رسول اللہ ﷺ الربوا سبعون جزءً ایسرھا ان ینكح الرجل امه اھ(1/245)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0