محترم مفتی صاحب!
۱۔ نمازِ جنازہ پڑھتے وقت کتنی صفیں بنانے کا اہتمام کرنا چاہیۓ ؟ آیا کوئی خاص تعداد اس سلسلے میں ہے جس کا اہتمام کیا جائے؟
۲۔ دوسرا مسئلہ عموماً یہ پیش آتا ہے کہ بوقتِ نماز جنازہ بعض لوگ چپل پہن کر نماز ادا کرتے ہیں، بعض لوگ ان کو اتار کر ان کو اوپر پاؤں رکھ کر نماز پڑھتے ہیں، بعض بالکل علیحدہ کردیتے ہیں (میں نے کسی عالم سے سنا ہے کہ چپل اگر پاک ہو ں تو ان کو پہن کر نماز پڑھنا اور ان کو اتار کر اوپر پاؤں رکھ کر پڑھنا برابر ہے ، لہذا ان کو اتار کر اوپر پاؤں رکھنے کا اہتمام نہیں کرنا چاہیۓ بلکہ پہن کر ہی نماز پڑھ لی جائے) تو جو لوگ چپل اتار کر اوپر پاؤں رکھ کر نماز پڑھنے کا کہیں(عموماً مقامی محلے والے اس کا کہتے ہیں) تو کیا حکم ہے؟ کیوں کہ جب چپل پاک ہوں تو پاؤں نکال کر ان کے اوپر رکھ کر نماز پڑھنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ پہن کر ہی درست ہونا چاہیۓ ۔
اس مسئلہ میں مجھے کافی الجھن ہے ، شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر میری رہنمائی فرمائیں تا کہ سب کو مطلع کیا جاسکے، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر دے۔
(۱) جنازہ کی نماز میں مستحب ہے کہ حاضرین کی تین صفیں کردی جائیں ، یہاں تک کہ اگر صرف سات آدمی ہوں تو ایک آدمی کو ان میں امام بنادیا جائے اور پہلی صف میں تین آدمی کھڑے ہوں اور دوسری میں دو ، اور تیسری میں ایک، اور اگر نمازی زیادہ تعداد میں ہوں اور تین صفوں میں نہ سما سکتے ہوں تو اس صورت میں تین سے زیادہ صفیں بنانا بھی بلاشبہ جائز ہے اور درست ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
(۲) جو آدمی جنازے کی نماز جوتا پہنے ہوئے پڑھتے ہیں ان کے لئے یہ امر ضروری ہے کہ وہ جگہ جس پر کھڑے ہوئے ہوں وہ اور جوتے دونوں پاک ہوں اور اگر جوتا پیر سے نکال دیا جائے اور اس پر کھڑے ہوں تو صرف جوتے کا پاک ہونا ضروری ہے ، متعلقہ جگہ کا نہیں، لہٰذا بوقتِ موقع کسی بھی صورت پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
فی الھندیة : إذا كان القوم سبعة قاموا ثلاثة صفوف یتقدم واحد و ثلاثة بعده و اثنان بعدھم و واحد بعدھم كذا فی التتارخانیة . (ج۱ ص۱۶۴)۔
و فی الشامیة : لقوله علیه السلام من صلی علیه ثلاثة صفوف غفرله ’’إلی قوله‘‘ قال فی المحیط : و یستحب أن یصف ثلاثة صفوف حتی لو كانوا سبعة یتقدم أحدھم للامامة یقف وراءه ثلاثة ثم إثنان ثم واحد . (ج۲ ص۲۱۴)
و فی التتارخانیة : كذالك ج۲ ص۱۶۶، و كذا فی كتاب الفقه علی المذاھب الاربعة .
ج۱ ص۴۷۵، و كذا فی السنن الكبری للبھیقی . ج۴ ص ۴۸ ۔
و فی الفقه الاسلامی : و یندب أن تكون صفوف المصلین ثلاثة للحدیث الآتی ، من صلی علیه ثلاثة غفرله. (ج۲ ص۴۸۶ وكذا فی المغنی)۔
و فی المجموع : و یستحب أن تكون صفوفھم ثلاثة فصاعداً للحدیث مالك بن ھبیرة و فی تمام حدیثه و كان مالك إذا استعمل أھل الجنازة جزھم ثلاثة صفوف.( ج۵ ص۱۶۹)۔
و فی البحرالرائق : أنه لو قام علی النجاسة و فی رجلیه نعلان لم یجز و لو افترش نعلیه و قام علیھا جازت و بھذا یعلم ما یفعل فی زماننا من القیام علی النعلین فی صلاة الجنازة لكن لابد من طهارة النعلین الخ (۲؍۱۷۹)۔