السلام علیکم! محترم جناب مفتی صاحب
مسئلہ یہ ہے کہ میری خالہ زاد بہن کی ایک بچی وقت سے پہلے پیدا ہوگئی ، سات مہینے میں ایک دن باقی تھ ا، مگر وہ زندہ پیدا ہوئی، ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ چونکہ اس بچی کے پھیپھڑے نہیں بنے ہیں، اس لۓ یہ زندہ نہیں بچے گی ، اس بچی کو ڈاکٹروں نے ہمیں نہیں دیا اور نہ ہم نے اُسے چھوا ، مگر ہم نے اُسے دور سے زندہ حالت میں دیکھا ، وہ آنکھیں کھول کر دیکھ رہی تھی، پھر ڈاکٹر نے اُسے اکسیجن میں روئی میں لپیٹ کر رکھ دیا ، اسی وجہ سے نہ اُسے اذان دی گئی نہ غسل دیا گیا ، وہ اس حالت میں ۲ دن زندہ رہ کر انتقال کر گئی ، تو ڈاکٹروں نے اُسے نہلا کر سفید کپڑے میں لپیٹ کر بہنوئی کو دے دیا ، بہنوئی نے اُسے بغیر نمازِ جنازہ کے ، سیدھے قبرستان لے جا کر دفن کر دیا کہ اس کو تو اذان ہی نہیں دی گئی تھی۔
اب ہمیں کچھ علماءِ کرام نے بتایا کہ یہ غلط ہوا ہے ، اُس کو نمازِ جنازہ دینی چاہیۓ تھی ، اب نہیں دی تو اس کا کفارہ ادا کرو ، ورنہ اس بچی کےوالدین گناہ گار ہونگے ، ہمیں اس مسئلے کا حل بتائیں کہ اس کا کیا کفارہ ہے ؟ بہت مہربانی ہوگی۔
سوال میں مذکور نومولود کے ساتھ جو کچھ ہوا (یعنی اس کے کان میں اذان نہ دینا اور اُسے نہلا کر اس پر نمازِ جنازہ وغیرہ نہ پڑھنا) یہ سب غلط ہوا ، اس کی وجہ سےبچے کے والدین اور دیگر رشتہ دار جنہیں اس کی پیدائش کا علم ہو گیا تھا ، وہ سب گناہ گار ہیں ، اب اگر اُسے دفن کیے اتنا وقت ہوا ہو کہ وہ ابھی تک گلی سڑی نہ ہو ، تو اس کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے ، ورنہ یہ سب لوگ اپنی اس ناجائز حرکت پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں ، اور آئندہ کے لۓ ایسے امور سے مکمل احتراز کریں۔
فی الفتاوى الهندية : و لو دفن الميت قبل الصلاة أو قبل الغسل فإنه يصلى على قبره إلى ثلاثة أيام ، و الصحيح أن هذا ليس بتقدير لازم بل يصلى عليه ما لم يعلم أنه قد تمزق ، كذا في السراجية اھ (1/ 165)۔
و فی الدر المختار : (و إن دفن) و أهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له (صلي على قبره) استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح . (2/ 224)۔