السلام علیکم حضرت!
کیا بینک سے قسطوں پر گاڑی وغیرہ لینا صحیح ہے؟
عمومی بینک ہو، یا کوئی دوسرا ادارہ ، درجِ ذیل شرائط کے ساتھ اس سے گاڑی وغیرہ قسطوں پر لینا جائز اور درست ہے، بشرطیکہ گاڑی وغیرہ اگر پہلے سے بینک کی ملکیت میں نہ ہو تو اپنے نمائندے کے ذریعہ اسے خرید کر اپنی ملکیت و قبضہ میں لینے کے بعد فروخت کرے ،چنانچہ شرائط درجِ ذیل ہیں:
(۱):مجلسِ عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا ۔
(۲): ہر قسط کی مالیت طے کرلی جائے۔
(۳): یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی اقساط ہونگی۔
(۴) :کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ و غیرہ بھی نہ لیا جائے۔
ففی سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة» وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح» والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما" (3/ 525)۔
وفی شرح المجلة: المادة ٢٣٥ : البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحیح (۲/ ۱۶۶)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0