السلام علیکم اگر کسی عورت کے حیض کی عادت آٹھ دن کی ہو اور وہ نویں دن نہائے اور شوہر سے ہم بستر ہوجائے لیکن ہم بستری کے بعد پھر سے اس کو چند خون کے دھبے آجائیں تو اس کے بارے میں کیا کوئی کفارہ دینا ہوگا؟ ضرور جلد سے جلد اس کا جواب ارسال کریں۔ جزکم اللہ خیراً
اس صورت میں کوئی کفارہ لازم نہیں، مگر آئندہ کیلئے عورت کی عادت نو دن سمجھی جائیگی۔
کما فی رد المحتا: لو انقطع لدون العشرة ولتمام عادتها ومضی علیها وقت صلاة خرجت من الحیض، وجاز لزوجها قربانها (۱/ ۲۹۵)
وفی الهندیة: انتقال العادة یکون بمرة عند ابی یوسف وعلیه الفتوی هکذا فی لکافی فان رأت بین طهرین تامین دمالا علی عادتها بالزیادة او النقصان او بالتقدم او التاخر أو بهما معا انتقلت العادة ال ایام دمها حقیقتا کان الدم أو حکما هذا اذا لم یجاوز العشرة اھ (۱/ ۳۹) واللہ اعلم
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0