جناب عالی ! السلام علیکم میری عرض صرف اتنی ہے کہ اگر کسی کے پیسے ہوں ،اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ سرمایا کاری کرے، تو کیا بینک میں لگا سکتا ہے ؟ آج کل اسلامک بینک میں لگا ر ہے ہیں ،اور بہت سارے بینک کہتے ہیں کہ ہمارا اسلامک سسٹم میں سود نہیں ہوتا، اور خالص اسلامک ہے، جیسے بینک اسلامک ، میزان وغیرہ، میزان بینک کے مطابق تو ان کے پاس مفتی تقی عثمانی صاحب کا فتوی بھی ہےکہ ہمارا نظام اسلامک ہے، اس کے علاوہ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ لوگ اپنی کوئی فہرست جاری کریں کہ کن کن بینکوں یا کمپنیوں میں اور کسی طرح سرمایا کاری جائز ہے یا نہیں؟ اس سے امت کی بڑی مدد ہو گی ۔ جزاک اللہ خیرا و السلام !
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک اور بینک اسلامی کے اکثر و بیشتر معاملات مستند علماء کرام کے زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہیں، اس لئے ان کے ساتھ معاملات کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔ واللہ أعلم بالصواب!
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0