میری کچھ رقم میزان بینک کے TDR Fixed اکاؤنٹ میں ساڑھے پانچ سال کے لئے رکھی ہوئی ہے،میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس کاروبار کے منافع حلال ہیں ؟ کیا مجھے اصل رقم کی زکوۃ ادا کرنی ہے ؟
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک مستند علماءِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں مضاربہ و استصناع وغیرہ کے طریقوں سے اپنے معاملات انجام دیتا ہے، اب اگر اس قسم کے معاملات کا نفع ملتا ہو تو اس TDR Fixed اکاؤنٹ کھلوا کر نفع حاصل کرنا شرعاً بھی جائز ہوگا، جبکہ سال گزرنے پر زکوۃ کی تاریخ میں صارف کے اکاونٹ میں جتنی رقم جمع شدہ ہو اس تمام مال پر دیگر اموالِ زکویّہ سمیت زکوٰۃ واجب ہوگی۔
ففي الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) اھ (2/ 259)۔
و في الدر المختار: (وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد و في الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) اھ (2/ 302)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0