میرا بیٹا ساڑھے چھ سال کا ہے ، وہ ٹھیک طریقے سے نمازیں پڑھتا ہے، جماعت کے کچھ لوگ اسے ایک طرف کر دیتے ہیں ، باوجود اس کے کہ اس نے نماز شروع کی ہوئی ہوتی ہے اور یہ میرے لۓ ناقابل برداشت ہے، میری راہ نمائی فرمائیں قرآن و سنت کی روشنی میں کہ ان کا اس طرح کرنا ٹھیک ہے یا غلط؟ کیونکہ اس سے میرے بچے کا مسجد میں نماز پڑھنے کا حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔
ضابطۂ شرعیہ کے حساب سے تو بچے کو بچوں کی صف میں کھڑا کرنا چاہیۓ، تاہم اگر ایسی صورت نہ ہو یا بچوں کو الگ کھڑا کرنے میں ان کی شرارتوں کی وجہ سے بڑوں کی نماز خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو سائل کا اپنے بچے کو ساتھ کھڑا کرنا جائز ہے اور اس کو دھتکار نا صحیح نہیں، اس سے احتراز چاہیۓ۔
كما فى تقريرات الرافعي : (قوله ذكره فى البحر بحثا ) قال الرحمتى ربما يتعين في زماننا إدخال الصبيان في صفوف الرجال لان المعهود منهم إذا اجتمع صبيان فاكثر تبطل صلاة بعضهم بعض و ربما تعدى ضررهم إلى فساد صلاة الرجال اھ (۱/ ۸۳)۔
و في مشكاة المصابيح : عن أبي مالك الأشعري قال : ألا أحدثكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم؟ قال: أقام الصلاة و صف الرجال و صف خلفهم الغلمان ثم صلى بهم فذكر صلاته اھ (1/ 348)۔
و فی الدر المختار : (الرجال) ظاهره يعم العبد (ثم الصبيان) ظاهره تعددهم ، فلو واحدا دخل الصف اھ (1/ 571)۔