امامت و جماعت

باشعور بچے کا بڑوں کےساتھ صف میں کھڑا ہونا

فتوی نمبر :
30440
| تاریخ :
2017-03-26
عبادات / نماز / امامت و جماعت

باشعور بچے کا بڑوں کےساتھ صف میں کھڑا ہونا

میرا بیٹا ساڑھے چھ سال کا ہے ، وہ ٹھیک طریقے سے نمازیں پڑھتا ہے، جماعت کے کچھ لوگ اسے ایک طرف کر دیتے ہیں ، باوجود اس کے کہ اس نے نماز شروع کی ہوئی ہوتی ہے اور یہ میرے لۓ ناقابل برداشت ہے، میری راہ نمائی فرمائیں قرآن و سنت کی روشنی میں کہ ان کا اس طرح کرنا ٹھیک ہے یا غلط؟ کیونکہ اس سے میرے بچے کا مسجد میں نماز پڑھنے کا حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ضابطۂ شرعیہ کے حساب سے تو بچے کو بچوں کی صف میں کھڑا کرنا چاہیۓ، تاہم اگر ایسی صورت نہ ہو یا بچوں کو الگ کھڑا کرنے میں ان کی شرارتوں کی وجہ سے بڑوں کی نماز خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو سائل کا اپنے بچے کو ساتھ کھڑا کرنا جائز ہے اور اس کو دھتکار نا صحیح نہیں، اس سے احتراز چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فى تقريرات الرافعي : (قوله ذكره فى البحر بحثا ) قال الرحمتى ربما يتعين في زماننا إدخال الصبيان في صفوف الرجال لان المعهود منهم إذا اجتمع صبيان فاكثر تبطل صلاة بعضهم بعض و ربما تعدى ضررهم إلى فساد صلاة الرجال اھ (۱/ ۸۳)۔
و في مشكاة المصابيح : عن أبي مالك الأشعري قال : ألا أحدثكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم؟ قال: أقام الصلاة و صف الرجال و صف خلفهم الغلمان ثم صلى بهم فذكر صلاته اھ (1/ 348)۔
و فی الدر المختار : (الرجال) ظاهره يعم العبد (ثم الصبيان) ظاهره تعددهم ، فلو واحدا دخل الصف اھ (1/ 571)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
وقاص احمدمشتاق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 30440کی تصدیق کریں
0     543
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات