امام صاحب نے مغرب کی دوسری رکعت میں سورتِ فاتحہ کے بعد کسی سورت کی قرأت نہیں کی ، اور رکوع میں چلے گئے اور سجدہ سہو کر لیا ، تو کیا نماز ہو جائے گی؟ فرض کے چھوٹنے پر کیا سجدۂ سہو سے نماز ہو جاتی ہے ،فتوی دے کر راہ نمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ نفسِ قرأت فرض ، اور سورتِ فاتحہ کا پڑھنا اور سورتِ فاتحہ کے ساتھ دوسری کوئی سورت کا ملانا واجب ہے ، نماز کی دوسری رکعت میں سورتِ فاتحہ کے بعد کسی سورت کی قرأت سہواً نہیں کی تو اس پر ترکِ واجب کی وجہ سے سجدۂ سہو لازم تھا ، جب اس نے سجدہ سہو کر لیا تو نماز درست ادا ہوگئی۔
فى الدر المختار : (قراءة فاتحة الكتاب) فيسجد للسهو بترك أكثرها لا أقلها ، (إلی قوله) (و ضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها (إلی قوله) (في الأوليين من الفرض) اھ (1/ 458)۔