امامت و جماعت

مغرب کی دوسری رکعت میں سورتِ فاتحہ کے ساتھ سورت نہ ملانے کا حکم

فتوی نمبر :
30354
| تاریخ :
2017-03-16
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مغرب کی دوسری رکعت میں سورتِ فاتحہ کے ساتھ سورت نہ ملانے کا حکم

امام صاحب نے مغرب کی دوسری رکعت میں سورتِ فاتحہ کے بعد کسی سورت کی قرأت نہیں کی ، اور رکوع میں چلے گئے اور سجدہ سہو کر لیا ، تو کیا نماز ہو جائے گی؟ فرض کے چھوٹنے پر کیا سجدۂ سہو سے نماز ہو جاتی ہے ،فتوی دے کر راہ نمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نفسِ قرأت فرض ، اور سورتِ فاتحہ کا پڑھنا اور سورتِ فاتحہ کے ساتھ دوسری کوئی سورت کا ملانا واجب ہے ، نماز کی دوسری رکعت میں سورتِ فاتحہ کے بعد کسی سورت کی قرأت سہواً نہیں کی تو اس پر ترکِ واجب کی وجہ سے سجدۂ سہو لازم تھا ، جب اس نے سجدہ سہو کر لیا تو نماز درست ادا ہوگئی۔

مأخَذُ الفَتوی

فى الدر المختار : (قراءة فاتحة الكتاب) فيسجد للسهو بترك أكثرها لا أقلها ، (إلی قوله) (و ضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها (إلی قوله) (في الأوليين من الفرض) اھ (1/ 458)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
رفعت اللہ نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 30354کی تصدیق کریں
0     826
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات