السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
بیوی سے جھگڑے کے دوران انتہائی غصے اور مایوسی کے عالم میں اسلام کی شان میں گستاخی کے درجِ ذیل الفاظ کہے گئے تھے، "اللہ میری تکلیف نہیں دیکھتا، سنتا، اندھا، بہرا ہوگیا، اللہ کی ذات اچھی نہیں، اسلام کی تعلیمات ڈھونگ ہیں" اس کا کیا کفارہ ہوگا؟ اور نکاح ٹوٹ گیا؟ جلد تفصیلی احکام سے مطلع کر دیں۔
اللہ تعالیٰ کی شانِ عالی کے متعلق سوال میں درج کردہ الفاظ انتہائی گستاخانہ اور کفریہ ہیں، ان الفاظ کے کہنے سے سائل دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہوگیا ہے اور نکاح بھی ختم ہوچکا ہے، لہذا سائل پر لازم ہے کہ ان الفاظ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور دوبارہ "کلمہ" پڑھ کر تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کرے، جبکہ آئندہ کے لئے اس قسم کے بیہودہ اور کفریہ الفاظ سے مکمل اجتناب کرے۔
کما فی الخلاصة: الجنس الثانی فیما یقال فی اللہ تعالیٰ اذا وصف اللہ تعالیٰ بما لایلیق بہ او سخر باسم اللہ او بامر من اوامرہ(الیٰ قولہ) رجل مات ابنہ وقال خدائی را بایستہ بود یکفر الخ(4/384)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1