وضو

دورانِ وضو کسی عضو کے خشک ہونے میں شک ہوجائے تو وضو لوٹانا لازم ہوگا؟

فتوی نمبر :
2971
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

دورانِ وضو کسی عضو کے خشک ہونے میں شک ہوجائے تو وضو لوٹانا لازم ہوگا؟

اگر کسی کو وضو کے دوران شک ہوجائے کہ چہرہ خشک رہ گیا ہے یا ہاتھ خشک رہ گیاہے تو کیا کیا جائے؟آیا دوبارہ وضو کرے یا صرف اس حصہ کو دھولے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دورانِ وضو یا وضو کے بعد اگر کسی عضو کے خشک رہ جانے کا غالب گمان یا یقین ہوجائے ،تو فقط اسی عضو کا دھونا کافی ہے ،پورے وضو کا اعادہ لازم نہیں ،لیکن اگر کسی کو شک کا مرض ہو ،تو اس عضو کو اس شک کی بنا پر دوبارہ دھونا بھی ضروری اور لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی حاشیة الطحطاوی: علی مراقی الفلاح: وشك فی بعض وضوئه وهو اول ما عرض له غسل ذلك الموضع وان کثر شکه لا یلتفت الیه اھ(۲۶۰)
وفی الدر المختار: شك فی بعض وضوئه اعاد ما شك فی ترك عضو من اعضائه قوله والا لا ای وان لم یکن فی خلاله بل کان بعد الفراغ منه وإن کان اول ما عرض له الشك عادة له وان کان فی خلاله فلا یعید شیئًا قطعًا للوسوسة عنه کما فی التاتر خانیة اھ (۱/ ۱۵۰)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 2971کی تصدیق کریں
0     176
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات