وضو

قبولِ اسلام کے بعد آغا خانی بیوی بچوں کے ساتھ رہنا

فتوی نمبر :
58943
| تاریخ :
2005-03-24
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

قبولِ اسلام کے بعد آغا خانی بیوی بچوں کے ساتھ رہنا

مفتی صاحب! میں پہلے آغاخانی تھا، اب اللہ نے ہدایت دے دی ہے، لیکن میری بیوی اور بچے آغاخانی عقائد پر قائم ہیں، کیونکہ بیوی اہلِ کتاب نہیں ہے، کیا اس سے نکاح برقرار ہے؟ اور اگر بیوی سے علیحدہ رہوں تو بیوی بچوں کے لیے خرچہ دینا پڑےگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سائل کی بیوی بات مان کر مذہب اسلام قبول کر لے تو بہترہے، ورنہ بذریعہ عدالت اُسے اسلام کی دعوت دی جائے کہ قبول کرلے تو یہ نکاح بھی بدستور قائم رہے گا، ورنہ قاضی یا مسلمان جج دونوں کے درمیان تفریق یعنی علیحدگی کر دے اور یہ علیحدگی طلاق کے حکم میں ہوگی۔
اور بچے چونکہ باپ کے تابع ہیں، اس لیے ان کی پرورش کے اخراجات وغیرہ سائل کے ذمہ ہی لازم ہوں گے، مگر بیوی کے اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں بچوں کو اس کی پرورش میں رکھنا قطعاً درست نہیں۔ سائل پر لازم ہے کہ وہ ان کے عقائد و عبادات اور معاشرت کے لیے اسلامی حدود کے تحت رہ کر فکر کرے اور انہیں باضابطہ ترغیب دے تاکہ ان کا مستقبل درست ہو سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الفتاوی الھندية: فإن أسلم الزوج وتحته كتابية ثم ارتد بانت كذا في محيط السرخسي والولد يتبع خير الأبوين دينا كذا في الكنز اھ (1/339)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58943کی تصدیق کریں
0     1055
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات