وضو

برکت کے لئے کنویں میں زمزم کا پانی ڈالنے اور اس سے وضو کا حکم

فتوی نمبر :
28818
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

برکت کے لئے کنویں میں زمزم کا پانی ڈالنے اور اس سے وضو کا حکم

اگر کسی گھر میں بورنگ کی جارہی ہو اور گھر کے لوگ اس میں برکت کے لئے زمزم ڈال دیں تو کیسا ہے؟ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ زمزم کی توہین ہے،کیونکہ وہ پانی باتھ روم، غسل خانے اور کچن کے بیسن ہر جگہ جائےگا اور استعمال ہوگا اور اس کی وجہ سے زمزم کی توہین ہوگی،کیونکہ زمزم کا ایک قطرہ بھی اگر عام پانی میں ملا دیا جائے تو اس پورے پانی میں زمزم والی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔
(نوٹ) یہ صفات والی بات کو اب سائنس بھی مانتی ہے اور سائنس دانوں نے تجربات کرکے بھی دیکھے ہیں)
براہِ مہربانی وضاحت فرما دیں کہ اس کی حقیقت اور شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ اگر زمزم بورنگ میں ڈال دیا جائے ؟جزاک اللہ خیرا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بورنگ کی ابتداء میں برکت کے لئے زمزم کا پانی ڈالنے سے بورنگ کا سارا پانی زمزم کے حکم میں نہیں بنتا،بلکہ وہ عام پانی کے حکم میں ہی رہتا ہے،اس لئے اس پانی سے وضوغسل وغیرہ بلاکراہت جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر المختار: (يرفع الحدث) مطلقا (بماء مطلق)(الیٰ قوله) (وماء زمزم) بلا كراهة اھ (1/179)۔
وفی رد المحتار: (قوله يكره الاستنجاء بماء زمزم) وكذا إزالة النجاسة الحقيقية من ثوبه أو بدنه اھ (2/625)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 28818کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات