وضو

مصنوعی وگ لگا کر وضو اور غسل کا حکم

فتوی نمبر :
17427
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

مصنوعی وگ لگا کر وضو اور غسل کا حکم

اگر بالوں کا کوئی ایسا ٹکڑا جو مصنوعی ہو اور اسے باریک جال کے ذریعے باندھا گیا ہو جس سے پانی اور ہوا گزرسکتی ہو، ایسے ٹکڑے کو کھوپڑی پر ایک مہینہ کے لیے فِکس کردیا گیا ہو کھوپڑی کے کناروں پر چپکا کر، کیا وضو یا غسل ہوجائے گا؟ کیونکہ گِلو کی وجہ سے پانی کھوپڑی کے تمام حصوں تک نہیں پہنچ پاتا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر گِلو لگانے کی وجہ سے پانی بالوں کی جڑوں تک نہیں پہنچ پاتا ہو تو شرعاً وضوء اور فرض غسل درست نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الهندیة: وان كان علی ظاهر بدنه جلد سمك او خبر ممضوغ قد جف فاغتسل ولم یصل الماء الی ما تحته لا یجوز (إلی قوله) ولو الزقت المرأة رأسها بطیب بحیث لا یصل الماء الی اصول الشعر وجب علیها ازالته لیصل الماء الی اصوله كذا فی السراج الوهاج. (ج۱، ص۱۳)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیق اللہ امیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 17427کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات