اگر کسی کو وضو کے دوران شک ہوجائے کہ چہرہ خشک رہ گیا ہے یا ہاتھ خشک رہ گیاہے تو کیا کیا جائے؟آیا دوبارہ وضو کرے یا صرف اس حصہ کو دھولے؟
دورانِ وضو یا وضو کے بعد اگر کسی عضو کے خشک رہ جانے کا غالب گمان یا یقین ہوجائے ،تو فقط اسی عضو کا دھونا کافی ہے ،پورے وضو کا اعادہ لازم نہیں ،لیکن اگر کسی کو شک کا مرض ہو ،تو اس عضو کو اس شک کی بنا پر دوبارہ دھونا بھی ضروری اور لازم نہیں۔
کما فی حاشیة الطحطاوی: علی مراقی الفلاح: وشك فی بعض وضوئه وهو اول ما عرض له غسل ذلك الموضع وان کثر شکه لا یلتفت الیه اھ(۲۶۰)
وفی الدر المختار: شك فی بعض وضوئه اعاد ما شك فی ترك عضو من اعضائه قوله والا لا ای وان لم یکن فی خلاله بل کان بعد الفراغ منه وإن کان اول ما عرض له الشك عادة له وان کان فی خلاله فلا یعید شیئًا قطعًا للوسوسة عنه کما فی التاتر خانیة اھ (۱/ ۱۵۰)