۱۔ جنازہ کاندھے پر لے کر چالیس قدم جانے کا جو رواج ہے، کیا یہ ائمہ مذہب سے ثابت ہے ؟ پھر یہ سنت ہے یا مستحب؟ مع الدلائل بیان کریں۔
۲۔ نماز جنازہ کے ثناء میں جو لفظ ’’ وجل ثناؤک ‘‘ پڑھنے کا رواج ہے، یہ ائمہ مذہب سے ثابت ہے یا نہیں ؟ اور یہ سنت ہے یا مستحب ؟ مع الدلائل بیان کریں۔
۳۔ مذکورہ دونوں مسئلے کے بارے میں احناف کے سوا دوسرے مذاہب کی رائیں واضح طور پر پیش کریں ؟
۱۔ جنازے کو اٹھا کر چالیس قدم چلنا سنت اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، ثناء کے اندر ’’جل ثناءک‘‘ کا اضافہ کرنے کو فقہاء کرام نے مستحسن لکھا ہے، ملاحظہ ہو:
كما في الدر المختار: (وإذا حمل الجنازة وضع) ندبا (مقدمها) بكسر الدال وتفتح وكذا المؤخر (على يمينه) عشر خطوات لحديث «من حمل جنازة أربعين خطوة كفرت عنه أربعين كبيرة» اھ (231/2)
وفي حاشية شرح الوقاية: قوله ويثني وهو الثناء المعروف مع زيادة مستحسنة يعنى سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسماك وتعالى جدك وجل ثناءك ولاإله غيرك اھ (253/1) واللہ اعلم