امامت و جماعت

امام کے پیچھے قرأت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
29
| تاریخ :
2004-07-17
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام کے پیچھے قرأت کرنے کا حکم

۱۔ کیا میں وہ سورت پڑھ سکتا ہوں ، جو مولوی صاحب رکعت میں پڑھتے ہیں؟
۲۔ دورانِ نماز کچھ بُرے خیالات میرے ذہن میں آتے ہیں، براہِ مہربانی مجھے بتائیں کہ، اس کے حل کی کیا صورت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاننا چاہیے کہ امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی صورت میں مقتدی پر لازم ہے کہ ، خاموش کھڑے ہو کر امام کی قراءت کو دھیان اور توجہ سے سنے ،نہ سورۃ فاتحہ پڑھے اور نہ ہی کوئی اور سورت ، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ خیال میں امام کے ساتھ دہرانے کی گنجائش ہے۔
اور اس کے بعد واضح ہو کہ ، دوران نماز از خود اگر کوئی خیال یا وسوسہ آجائے، تو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اگرچہ وہ خیال کتنا ہی بُرا ہو، البتہ اس خیال یا وسوسہ کو دل میں جمانا اور مزید اس میں سوچنا صحیح نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ اس قسم کے وساوس سے بچنے کا علاج یہ ہے کہ، دوران نماز اگر کوئی وسوسہ آتا ہے، تو فوراً اپنا دھیان اس بات پر جمائے کہ، میں نماز پڑھ رہا ہوں، پھر آئے تو پھر یہ دھیان جمائے سلام پھیرنے کے بعد ، بائیں جانب تھتکار دے ،اور دل دل میں شیطان سے یہ کہے کہ، اے لعین تو چاہے جتنے وسوسے لائے، لیکن میں نے نماز نہیں چھوڑنی، جیسا کہ ایک حدیث شریف میں یہی علاج بتایا گیا ہے، اس کے علاوہ سائل کو چاہیئے کہ نماز سے باہر بھی خیالات اور گناہوں سے اجتناب کرے، اور کثرت سے لاحول ولاقوۃ کا ورد رکھے، ان شاء اللہ تھوڑے دنوں ہی بہتری محسوس ہونے لگے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن أبي داود: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من صلاة جهر فيها بالقراءة فقال: «هل قرأ معي أحد منكم آنفا؟»، فقال رجل: نعم، يا رسول الله، قال: «إني أقول مالي أنازع القرآن؟»، قال: فانتهى الناس عن القراءة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما جهر فيه النبي صلى الله عليه وسلم بالقراءة من الصلوات حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم اھ (1/ 218)
وفیھا أیضا: مولى هشام بن زهرة يقول: سمعت أبا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج فهي خداج فهي خداج غير تمام» قال: فقلت يا أبا هريرة، إني أكون أحيانا وراء الإمام قال: فغمز ذراعي، وقال: اقرأ بها يا فارسي في نفسك اھ(1/ 216)
وفی مشكاة المصابيح: عن عثمان بن أبي العاص أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «يا رسول الله إن الشيطان قد حال بيني وبين صلاتي وقراءتي يلبسها علي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذاك شيطان يقال له خنزب فإذا أحسسته فتعوذ بالله منه واتفل على يسارك ثلاثا قال ففعلت ذلك فأذهبه الله عني» . رواه مسلم (1/ 29)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
امجد اللہ سیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 29کی تصدیق کریں
0     471
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات