اگر کسی شخص نے شراب کے نشہ میں صریح کفریہ کلمات بکے ہوں،لیکن بعد میں اس کو یاد نہ ہو اور اب وہ شک میں ہے کہ کیا میں نے نشے کی حالت میں یہ کفریہ کلمات بکے تھے یا نہیں، کیا ایسے بندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ احتیاطاْ کلمہ شہادت پڑھے؟ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ ماضی میں میں نے کفریہ کلمات بکے تھے یا نہیں ، کیا ایسے بندے کے لئے بھی کلمہ شہادت پڑھنا ضروری ہو گا؟
شک کی بناء پر آدمی کافر نہیں ہوتا، جہاں تک تجدیدِ ایمان کا تعلق ہے تو وہ ویسے بھی کرتے رہنا چاہیئے چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے "جددوا ايمانكم بلا إله إلا الله "یعنی کلمہ طیبہ کے ذریعہ اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو۔
کما فی مسند أحمد مخرجا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا؟ قَالَ: «أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»(14/ 328)۔
و في اصول الکرخی : ان ما ثبت بالیقین لا يزول بالشک (11) ۔
وفي التا تارخانية: السكران إن كان يعرف الشر من الخير والارض من السماء فكفره كفر وان كان لا يعرف لا يكون كفرا عند علمائنا (5/531)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1