کیا ادارہ اس بات پر حق بجانب ہے کہ وہ ملازم کی تنخواہ میں سے کٹوتی کرے،اگر وہ تاخیر سے آئے یا 8گھنٹہ مکمل ڈیوٹی نہ دے؟ کٹوتی کی رقم کسی ایسی جگہ استعمال کی جاسکتی ہے، جس سے اسلام نے منع نہیں کیا؟
ادارے کے ضابطے کے مطابق جتنی تاخیر معاف ہو،اس کے علاوہ تاخیر اور غیر حاضری کو جمع کرکے جتنے دن بن جائیں،مہینے کے آخر میں کٹوتی کرنا ادارے کے منتظمین کیلئے جائز اور درست ہے،جبکہ یہ رقم ادارہ کی ملکیت ہے، وہ جہاں چاہے خرچ کرسکتا ہے۔
کما فی الدر المختار: وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل الخ
وفی الشامیة: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة اھ(6/70)۔
وفی فتح القدیر: ومن استاجر رجلا لیذھب الیٰ البصرۃ فیجیئ بعالیه فذھب فوجد بعضھم قدمات فجاء بمن بقی فله الاجر بحسابه لانه اوفی بعض المعقود علیه فیستحق العوض بقدرہ اھ(8/22)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0