میری ہمشیرہ کے خاوند کا انتقال ہو گیا ،اور ان کے تین بچے ہیں، جو ابھی چھوٹے ہیں، بڑی بیٹی 2 ماہ کی ہے ،اور کمانے والا کوئی نہیں ہے، تو کیا وہ پیسے بینک میں رکھوا کر ماہانہ نفع لے سکتی ہے؟
کسی سودی بینک میں پیسے رکھ کر اس سے حاصل ہونے والے سود کو استعمال کرنا تو نا جائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے،البتہ مذکور یتیم بچوں کے پیسے کسی اسلامی بینک میں رکھ کر اس سے حاصل ہونے والا نفع کو استعمال کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، جبکہ اسلامی بینکوں میں "المیزان، بینک اسلامی، بینک دبئی اسلامی "شامل ہیں۔
كما في أحكام القرآن للجصاص: قال اللّه تعالى ﴿وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْيَتامى﴾ ( الى قوله) وقد روى عن النبي صلّى اللّه عليه وسلّم ابتغوا بأموال اليتامى لا تأكلها الصدقة ويروى ذلك موقوفا على عمر وعن عمر وعائشة وابن عمر وشريح وجماعة من التابعين دفع مال اليتيم مضاربة والتجارة به وقد حوت هذه الآية ضروبا من الأحكام أحدها قوله قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ فيه الدلالة على جواز خلط ماله بماله وجواز التصرف فيه بالبيع والشرى إذا كان ذلك صلاحا وجواز دفعه مضاربة إلى غيره اھ (2/ 13)۔
وفي الدر المختار: (وجاز) لو اتجر من مال اليتيم (لليتيم) اھ (6/ 712)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0