بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس دور میں شریعت پر چلنا مشکل ہے، اس لیے مسجد کے امام حضرات کے بارے میں بھی یہ یقینی طور پرنہیں کہا جاسکتا کہ وہ بھی شریعت پر چل رہے ہیں یا نہیں، اس سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ گھر میں ہی اکیلے نماز پڑھ لی جائے،اورمسجد میں باجماعت نماز نہیں پڑھی جائے۔
صورت مسئولہ میں مذکورسوچ اور نظریہ سراسر غلط اور شیطانی ہے،اس کی وجہ سے جماعت کی نماز جس کا اہتمام واجب ہے، ترک کرنا جائز نہیں،جبکہ نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ ہر نیک و بد کی اقتدا ءمیں نماز پڑھو۔
ففي سنن أبي داؤد: عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلی الله عليه وسلم: الجهاد واجب عليكم مع كل أمير، برا كان أو فاجرًا ، والصلاة واجبة عليكم خلف كل مسلم ، برا كان أو فاجرا و إن عمل الكبائر والصلاة واجبة على كل مسلم ، برا كان أو فاجرا و إن عمل الكبائر -( 186/4)
وفي الدر المختار : الجماعة سنة مؤكدة للرجال، قال الزاهري أرادوا بالتاكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد، فشرط الخ (552/1)۔