میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں کام کرتا ہوں، جو گاڑیاں ہم چلاتے ہیں، وہ بینک کے ذریعے لی گئی ہیں، اور بینک اپنی رقم پر سود لگاتا ہے، مجھے یہ بتائیں کہ کیا میری نوکری حلال ہے یا حرام؟ کیا یہ سود کے پیسوں پر کاروبار ہوگا؟ اگر ہاں تو سود کے پیسوں پر چلانے والے کاروبار میں ہم بھی برابر کے شریک اور گناہگار ہونگے؟ کیونکہ ہم بھی تو کاروبار کو چلانے میں شریک ہونگے۔
کمپنی کا بینک سے سودی قرضہ لے کر اس کے ذریعہ گاڑیاں خریدنا اگرچہ ناجائز اور حرام ہے، لیکن جس ملازم کا براہ ِراست اس سودی لین دین سے تعلق نہ ہو اس کا ایسی کمپنی میں ملازمت اختیار کرنا جائز ہے، تاہم اگر کسی ملازم کو سودی معاملات انجام دینے پڑتے ہوں تو ایسی صورت میں اس کی ملازمت ناجائز اور اس پر ملنے والی تنخواہ حرام ہوگی۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
وفي الفتاوى الهندية: لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب وكذا أكل طعامهم كذا في الاختيار شرح المختار اھ (5/ 342)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0