میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتا ہوں ، میری کمپنی مجھے بینک سے گھر کا قرضہ لے کر دے رہی ہے، میری کمپنی 70 فیصد سود ادا کرے گی، جبکہ میں 30 فیصد بینک کو قرضے کا سود اصلی رقم سمیت ادا کروں گا۔ کیا یہ طریقہ شرعاً جائز اور حلال ہے؟
بینک سے سودی رقم لے کر گھر خرید نا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، بلکہ سائل کو چاہیئے کہ کسی ایسے ادارہ کے ذریعے گھر کا انتظام کرے جو غیر سودی طریقہ سے قسطوں میں اسے گھر فراہم کر دے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: " هم سواء " . رواه مسلم (2/ 134)-
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0