میں آئی ٹی مشاورتی ڈیپارٹ میں کام کرتا ہوں، جہاں وہ بینک کے لئے درخواستیں بناتے ہیں، میں کریڈٹ والی درخواستوں پر کام کرتا ہوں، اگر چہ یہ ڈائریکٹ کسی کریڈٹ کی ٹرانزیکشن اور سودی معاملہ میں ملوث نہیں ہے، لیکن اس کام میں تمام ڈیٹا اور کسٹمرز کی معلومات کو جمع کیا جاتا ہے، یہاں کریڈٹ والی درخواست قبول بھی کی جاتی ہے،اور رد بھی کی جاتی ہے، ان درخواستوں پر کسی قسم کا سودی طریقہ کار نہیں اپنایا جاتا، میں اپنے کام کے حوالے سے بہت پریشان رہتا ہوں کہ آیا یہ حلال بھی ہے یا نہیں؟
سائل کے کام کا تعلق اگر واقعۃًسودی لین دین سے نہیں ہے ،تو اس ڈیپارٹ میں کام کرنا اور اس کی تنخواہ لینا جائز اور درست ہے، تاہم سوال کی نوعیت اگر مختلف ہو،تو مکرّر سوال کر کے حکم شرعی معلوم کر سکتا ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
وفي تكملة فتح الملهم: قوله ’’وكاتبه‘‘لأن كتابة الربا اعانة عليه ومن هنا ظهر ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فان كان عمل الموظف في البنك ما يعين على الربا، كالكتابة أو لحساب، فذاك حرام، الوجهين: الأول اعانة على المعصية، والثاني: أخذ الأجرة من المال الحرام، فاني معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا، وأما اذا كان العمل لا علاقة له بالربا فانه حرام للوجه الثاني فحسب فاذا وجد بنك معظم دخله حلال، جاز فيه التوظف للنوع الثاني من الأعمال، والله اعلم (۱/ ۶۱۹)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0