اگر کوئی حافظِ قرآن گانے سنتا ہےم، فلمیں دیکھتا ہے، گٹکے وغیرہ کھاتا ہے، پینٹ شرٹ پہنتا ہے ، تو کیا وہ نماز تراویح پڑھا سکتا ہے ؟
ایسے حافظِ قرآن کو اپنے اختیار سے نمازِ تراویح میں بھی امام بنانا ناجائز اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، لہذا کسی ایسے حافظ کو تراویح کا امام بنانا چاہیۓ جو متقی و پرہیزگار ہو۔
فى التنوير : و يكره إمامة عبد و ا أعرابي و فاسق و أعمى اھ (۱/ ۵۶۰)۔
و فی رد المحتار : تحت (قوله و فاسق) من الفسق و هو الخروج عن الاستقامة و لعل المراد به من يرتكب الكبائر اھ (۱/ ۵۶۰)۔