محترم جناب مفتی صاحب !
گزارش ہے کہ میں ایک سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا ہوں، اپنی قلیل آمدنی میں نقد پر گاڑی خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ آج کل مختلف بینکوں جیسے میزان بینک ، عسکری بینک، بینک الفلاح وغیرہ نے "کار اجارہ" کے نام سے سکیمیں شروع کی ہیں، ہمارا ادارہ بھی عسکری بینک کے ذریعہ گاڑی قسطوں پر کار اجارہ سکیم کے تحت دے رہا ہے، براہِ مہربانی راہنمائی فرماویں کہ کیا یہ عسکری بینک کی کار اجاره سکیم شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں ؟عسکری بینک کی کار اجارہ سکیم کا طریقہ کار ساتھ منسلک کر رہا ہوں، جواب کا منتظر رہوں گا، آپ کا خیر اندیش
عسکری بینک سمیت کسی بھی بینک سے کار لینا اس شرط پر جائز ہے کہ مذکور بینک یا اس کا کوئی نمائندہ گاڑی خرید کر اپنے قبضہ میں لے اور پھر سائل یا کسی بھی کسٹمر کو قسطوں پر یا نقد پر فروخت کرے یا اسے اجارہ لیز پر دے ۔
كما في الدر المختار: (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار، حتى لو كان علوا أو على شط نهر ونحوه كان كمنقول ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه اھ (5/ 147)۔
وفيه أيضا : كما في الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع ولو باع مؤجلا صرف لشهر به يفتى اھ (4/ 531)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: لئلا يفضي إلى النزاع) تعليل لاشتراط كون الأجل معلوما؛ لأن علمه لا يفضي إلى النزاع اھ (4/ 531) -
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0