ہمارے علاقے کی مسجد کے امام صاحب (جن کا تعلق جامعیہ فاروقیہ سے ہے) نے ایک جمعہ کی نماز کے بعد علان کیا، کے فلاں صاحب ہماری مسجد کے نمازی صاحب کا دو دن پہلےانتقال ہوا تھا آج نمازِ جمعہ کے بعد قرآن خوانی ہو گی، آپ لوگ شرکت کریں، اعلان سن کر بہت دکھ ہوا کے اہلِ حق سے تعلق ہونے کے باوجود! پھر جب عصر نماز کے لئے گیا تو مسجد میں بہت لوگوں کو دیکھا اور دیکھا کے مسجد کے اندر کھانے کی دیگیں رکھی ہیں، جو بعد ِنماز مسجد میں ہی کھلایا گیا، ان عالم کی عزت اور احترام سر آنکھوں پر ہے، مگر میرے ان سوالوں کے جواب عطا فرمادیں۔
1- امام صاحب کا مقتدا ہونے کے باوجود یہ عمل کیسا ہے؟
2-کیا اس سے لوگ حق بات سے محروم نہیں ہونگے، لوگ بدعت کو حق سمجھیں گے؟
3-کیا امام صاحب کو علانیہ تو بہ کرنی ہو گی اپنے بیانات میں؟ یہ فتویٰ احقر امام صاحب کو بھی دے گا، آپ سے التجا ہے کے تفصیلی اور جامع جواب دیں۔
ایصال ِثواب کیلئے بدنی یا مالی نفلی عبادات جیسے نماز، روزہ ، تلاوت، حج و عمرہ ، صدقاتِ نافلہ وغیرہ انجام دے کر اس کا ثواب کسی بھی مردہ یا زندہ کو بخشنا ثابت و جائز ہے، اہلِ سنت و الجماعت کا یہی مسلک ہے، اس لئے مروجہ ایام سوئم، دسواں، چالیسواں وغیرہ کی تعیین اور خاص اہتمام کے بغیر محض اللہ کی رضا کیلئے تلاوت وغیرہ انجام دیے جائیں تو اس کی گنجائش ہے، مگر میت کے ایصالِ ثواب کیلئے اجتماعی قرآن خوانی کی جو صورت مخصوص ایام کے اندر عام معاشرے میں لوگوں نے متعین کر رکھی ہے، اس طرح ختمِ قرآن کریم اور اس کے کھانے پینے کا یہ مخصوص طریقہ”قرون ثلاثہ مشہور لھا بالخیر“سے ثابت نہیں، اس لئے یہ بدعت ہے اور مزید یہ کہ اس میں بدعت ہونے کے علاوہ کئی ایک خرابیاں بھی ہیں اور وہ یہ کہ دوست رشتے دار تو عموماً محض شکایت سے بچنے کیلئے آتے ہیں، ایصالِ ثواب مقصود نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اگر کوئی دوست یا عزیز اپنے گھر بیٹھ کر پورا قرآنِ کریم ختم کر کے بخش دے تب بھی اہلِ میت راضی نہیں ہوتے اور اگر راضی ہو بھی جائیں تب بھی نہ آنے کی شکایت باقی رہتی ہے اور اگر اہلِ میت کے یہاں تھوڑی دیر بیٹھ کر حیلہ بہانہ بنا کر چلا جائے تو شکایت سے بچ جاتا ہے اور جو عمل ایسے مقاصد کیلئے ہو اس پر کچھ ثواب نہیں ملتا اور جب پڑھنے والا ہی ثواب سے محروم رہا، تو مردے کو کیا بخشے گا۔
اب رہا فقراء مساکین کا آنا تو یہ حضرات اس لئے آتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ملیگا، اگر انہیں پہلے سے معلوم ہو جائے کہ ملیگا کچھ نہیں صرف پڑھنا پڑھنا ہے، تو ہر گز ایک بھی نہیں آئیگا، اس سے معلوم ہوا کر ان حضرات کا آنا بھی محض اس توقع سے ہوتا ہے کہ کچھ ملے گا اور جب ان کا پڑھنا ہی دنیوی غرض کیلئے ہوا تو اس کا ثواب کہاں سے ملیگا اور مردے کو کیا بخشیں گئے۔
اسی طریقے سے ایسے مواقع میں مردوں اور عورتوں کا باہم اختلاط بھی ہوتا ہے، جو کہ نا جائز ہے، اس لئے ایسی بدعات و خرافات سے اجتناب ضروری ہے،اور اسی کو روکا جاتا ہے۔
تاہم اپنے طور پر پورے گھر والے قرآن ِکریم پڑھ کر یا دوسرے رشتے دار بھی اپنے مقام سے پڑھ کر میت کو بخش دیں اور ایک جگہ جمع ہونے اور وقت کی تعیین ضروری نہ سمجھیں تو یہ جائز ہے، لہٰذا قرآنِ کریم جیسے عظیم اور مہتم بالشّان عمل کو بدعات و خرافات سے پاک کر کے خلوص کے ساتھ کریں، اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اور سوال میں مذکور امام موصوف نے جو طریقہ اختیار کیا اگر یہ احیاناً ہو اور مذکور علاقہ میں مروّج نہ ہو کہ ہر مردے کیلئے ایسا کیا جاتا ہو، تو اس میں حرج نہیں، مگر مولانا موصوف کو چاہیے کہ مسئلہ اپنے مقتدیوں کےسامنے رکھے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور اہلِ بدعت کی تائید بھی نہ ہو۔
کما في رد المحتار: وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى اهـ (2/ 240)
وفيه أیضاً: ولهذا اختاروا في الدعاء: اللهم أوصل مثل ثواب ما قرأته إلى فلان، وأما عندنا فالواصل إليه نفس الثواب. وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع اھ (2/ 243)