میں ایک آفس میں کام کرتا ہوں، جہاں ایک بڑے کمرے کو مسجد کا درجہ دیا گیا ہیں، اور وہاں ہم نماز کی ادائیگی کرتے ہیں، اس مسجد کے لۓ ہم ہی میں سے ایک ملازم کو امام بنایا گیا ہے، میرے دو سوال ہے :
۱۔ کیا اس مسجد میں نماز کی ادائیگی کرنے سے ہمیں جماعت کا ثواب ملے گا؟ اور کیا یہ ہمارے لۓ جائز ہے؟
۲۔ہمارے یہ امام نماز کے دوران بہت سی حرکت کرتے ہیں، مثلاً، کھانسی کرنا، گلا صحیح کرنا، ڈکاریں لینا وغیرہ، کیا ان کی یہ حرکت عملِ کثیر کی حد میں آتی ہے؟ کیا اس طرح کرنے سے نماز میں کوئی فرق آتا ہے؟ ہمارے امام بلغم کے مریض ہیں! جزاک اللہ
۱۔ آفس میں جو جگہ نماز کے لۓ متعین کی گئی ہے، وہاں نماز پڑھنےسے جماعت کا ثواب ملےگا ، مگر باضابطہ وقف مسجد نہ ہونے کی وجہ سے اس میں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ملے گا، کیونکہ یہ جگہ مسجد نہیں، بلکہ جائے نماز ہے ، امام کے عذر کی وجہ سے کھانسنے اور ڈکار لینے سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا، تاہم بلا عذر ایسا کرنا مکروہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
و فی صحيح مسلم : عن ابن عمر ، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ، قال : «صلاة الجماعة أفضل من صلاة الفذ بسبع و عشرين درجة» اھ (1/ 450)۔
و في حاشية ابن عابدين : (و التنحنح) بحرفين (بلا عذر) أما به بأن نشأ من طبعه فلا اھ (1/ 618)۔
و فی حاشية ابن عابدين : و في الخانية دار فيها مسجد لا يمنعون الناس من الصلاة فيها ، إن كانت الدار لو أغلقت كان له جماعة ممن فيها فهو مسجد جماعة تثبت له أحكام المسجد من حرمة البيع و الدخول و إلا فلا اھ (1/ 171)۔