السلام علیکم !
محترم اُمید ہے اللہ پاک کی رحمت سے آپ عافیت سے ہونگے۔ حضور میرا سوال ہے کہ اگر کوئی بینک کہے کہ وہ ربا فری ہے، تو کیا اس میں پیسے رکھ کر ماہانہ اضافہ جائز ہے، آپ راہ نمائی فرمائیں۔
ربوا فری کا دعوی کرنے والا بینک اگر کوئی غیر سودی بینک ہو، اور وہ مستند علماء کی ایڈوائزری میں کام کر رہا ہو تو اس کی بات پر اعتماد کرنا ،اور ان کے پاس پیسے رکھ کر نفع حاصل کرنا درست ہے، مگر کسی سودی بینک کے اس طرح کے دعوے پر اعتماد کرنا خود فریبی ہی ہو گی، ان پر اعتماد نہیں کرنا چاہیئے الا یہ کہ وہ اپنے کام کی مکمل تفصیل اہلِ علم کے سامنے رکھ کر اس کا حکمِ شرعی معلوم کر کے بتا دیں تو ان پر بھی اعتماد میں حرج نہیں ہوگا۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0