السلام علیکم! مفتی صاحب! مجھے آپ سے چند سوالات کرنے ہیں، برائے مہربانی جوابات عنایت فرمائیں۔
۱۔ اگر میں مغرب کی آخری رکعت پالوں تو کیا پہلی دو رکعت کے لیے مجھے تشہد میں بیٹھنا ہوگا ؟ اور بعد میں دونوں رکعتوں میں سورت ملانی پڑے گی یا ایک ہی رکعت میں؟
۲۔ مسافر کے پیچھے مقیم کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟
۳۔ کیا تہجد کی نماز میں دیکھ کر قرآن پڑھنا جائز ہے؟
۴۔ کسی جگہ اگر مستقل امام نہ ہو تو امام کے لیے تراویح میں قرآن پاک دیکھ کر پڑھنا جائز ہے ؟
۱۔ مغرب کی آخری رکعت پانے والا اپنی بقیہ دو نوں رکعتوں میں تشہد میں بیٹھے گا اور اپنی بقیہ نماز کی دونوں رکعتوں میں سورۃ بھی ملائے گا۔
۲۔ مسافر امام کی اقتداء میں مقیم کی نماز درست ہے، البتہ چار رکعت والی نماز میں جب امام دو رکعت کے بعد سلام پھیر دے تو مقیم مقتدی اپنی بقیہ دو رکعت پوری کریں۔
۳، ۴ تہجد اور تراویح کی نماز میں بھی دیکھ کر قرآن پڑھنا جائز نہیں، بلکہ اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، چاہے وہ مستقل امام ہو یا غیر مستقل۔
ففي الدر المختار: (والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ، وإن قرأ مع الإمام لعدم الاعتداد بها لكراهتها مفتاح السعادة (فيما يقضيه) أي بعد متابعته لإمامه، فلو قبلها فالأظهر الفساد، ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد؛ فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما اھ (1/ 596)
وفي البحر الرائق: تحت (قوله وبعكسه صح فيها : وهو اقتداء المقيم بالمسافر فهو صحيح في الوقت وبعده لأن صلاة المسافر في الحالين واحدة والقعدة فرض في حقه غير فرض فى حق المقتدى) (إلى قوله) وقدام النبي صلى الله علیه وسلم وهو مسافر اهل مکة وقال أتموا صلاتكم فانا قوم سفر اھ (۲/ ۱۳۵ھ)
وفی الفتاوى الهندية: وإن صلى المسافر بالمقيمين ركعتين سلم وأتم المقيمون صلاتهم، كذا في الهداية وصاروا منفردين كالمسبوق إلا أنهم لا يقرءون في الأصح، هكذا في التبيين، ويستحب للإمام أن يقول: أتموا صلاتكم فإنا قوم سفر، كذا في الهداية. (1/ 142)
وفی الدر المختار: (وقراءته من مصحف) أي ما فيه قرآن (مطلقا) لأنه تعلم إلا إذا كان حافظا لما قرأه وقرأ بلا حمل اھ (1/ 624)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله مطلقا) أي قليلا أو كثيرا، إماما أو منفردا، أميا لا يمكنه القراءة إلا منه أو لا اھ (1/ 624)