امامت و جماعت

والد کا گھر میں نماز پڑھنے سے منع کرنا- کسی کا کہنا کہ ’’میں فلاں جگہ کام نہیں کروں گا‘‘ اور پھر کرے

فتوی نمبر :
23269
| تاریخ :
2014-08-08
عبادات / نماز / امامت و جماعت

والد کا گھر میں نماز پڑھنے سے منع کرنا- کسی کا کہنا کہ ’’میں فلاں جگہ کام نہیں کروں گا‘‘ اور پھر کرے

۱۔مفتی صاحب! میرے والد نے مجھے کہا تھا کہ نماز مسجد میں پڑھا کروں، کیا میں گھر میں نماز نہیں پڑھ سکتا ، نفل پڑھنے بھی مسجد جانا پڑےگا۔
۲۔ کچھ مہینے پہلے میں نے راولپنڈی میں کسی کے سامنے کہا تھا کہ میں پشاور میں کام نہیں کروں گا ، اب میں نے پشاور میں کام شروع کیا ہے، کیا مجھے جھوٹ کا گناہ تو نہیں ہوگا ، پشاور میں کام کرنے پر ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔عذرِ شرعی کے بغیر ،نوافل کے علاوہ ،فرض نماز گھر میں تنہا پڑھنا سخت گناہ ہے اور احادیثِ مبارکہ میں اس پر بہت وعیدیں وارد ہوئیں ہیں، اس لۓ اس کا جب والد نے بھی حکم دیا ہے تو سائل کو اس کا اہتمام کرنا چاہیۓ۔
۲۔ سائل کا ارادہ اس وقت پشاور میں کام نہ کرنے کا تھا اور اب کسی وجہ سے ارادہ تبدیل ہو چکا ہو تو ایسا کہنا جھوٹ بھی نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

مشكاة المصابيح : و عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " و الذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحطب ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلى رجال . و في رواية : لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم اھ (1/ 332)۔
و في الفتاوى الهندية : الأفضل في السنن و النوافل المنزل لقوله - عليه السلام - «صلاة الرجل في المنزل أفضل إلا المكتوبة» اھ (1/ 113)۔
و فيها أیضاً : الجماعة سنة مؤكدة كذا في المتون اھ (۱/ ۸۲)۔
و فی التعریفات : کذب الخبر : عدم مطابقته للواقع ، و قیل اخبار لاعلی ما علیه المخبر عنه اھ (ص: ۱۶۱)۔
و فیها أیضا : و قیل الصدق هو ضد الکذب و هو الإبانة عما یخبر به علی ما کان اھ (ص: ۱۱۶)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 23269کی تصدیق کریں
0     298
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات