حضرت مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ غیر مقلدین اور بریلویوں کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے؟
بریلوی چونکہ عموماً بدعات و رسومات کے مرتکب ہوتے ہیں، اس لیے کسی متبع سنت متقی پرہیز گار دیو بندی شخص کے ہوتے ہوئے، ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ، اور ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں۔
جبکہ موجودہ دور کے اہلِ حدیث کہلانے والے غیر مقلد حضرات عموماً مواضع اختلاف میں دوسرے مذاہب خصوصاً مذہب حنفی کی رعایت کی بجائے عمداً اس کے خلاف کا اہتمام کرتے ہیں، تقلید کو شرک سلف صالحین پر سب و شتم کرنے اور اجماعِ امت وقیاس شرعی سے انکار کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں، اگر مذ کور لا مذہبوں کا بھی یہی حال ہو ، تو ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی بجائے کسی دوسرے صحیح العقیدہ امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیئے، اگر چہ وہ گھر سے ذرا دور ہی کیوں نہ ہو ۔
ففي البحر: لوصلى خلف فاسق أو مبتدع ينال فضل الجماعة لكن لا ينال كما ينال خلف تقى ورع (الى قوله) وقيده فى المحيط بان لا تكون بدعته تكفره فان كانت تكفره فالصلوة خلفه لا تجوز اھ (۱ / ۳۴ ) -
ففی حاشية ابن عابدين: لكن في وتر البحر إن تيقن المراعاة لم يكره، أو عدمها لم يصح، وإن شك كره اھ (1/ 563) واللہ اعلم